سندھ میں لاک ڈاؤن سے متعلق اہم فیصلے

کورونا وائرس ٹاسک فورس سندھ کا اجلاس گزشتہ روز وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں  سندھ میں لاک ڈاؤن سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

پہلا فیصلہ یہ کیا گیا کہ تاجروں کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے اب بازار اور کاروباری مراکز 6 بجے شام کے بجائے رات 8 بجے تک کھلے رہیں گے۔

دوسرا فیصلہ یہ کیا گیا کہ  تمام دکانداروں اور انکے اسٹاف کو کورونا ویکسین لگانا لازمی ہوگا  اور 15 دن بعد سندھ انتظامیہ دکانداروں اور انکے اسٹاف کے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹس   چیک کرے گی۔

تیسرا فیصلہ یہ کیا گیا کہ  آؤٹ ڈور ڈائننگ کی رات 12 بجے تک اجازت ہوگی تاہم آؤٹ ڈور ڈائننگ پر لوگوں کے درمیان فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا۔

چوتھا فیصلہ یہ کیا گیا کہ  2 ہفتوں کے بعد کراچی میں شادی ہالز بھی کھول دیے جائیں گے  اور بیرونی اجتماعات  کے انعقاد کی بھی اجازت ہوگی ۔

پانچواں فیصلہ یہ کیا گیا کہ  سی ویواور دیگر تمام ساحل سمندر    کے پوائنٹس پر جانے کی پابندی ختم کردی گئی ہے اور اب سے لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساحل سمندر پر با  آسانی جاسکیں گے۔

  چھٹا فیصلہ یہ کیا گیا 9ویں  جماعت سےاوپرکی تمام جماعتوں  کے لیے تعلیمی ادارے پیر سے کھول دیے جائیں گے۔

 صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تمام اسکولوں  پر ان کے تمام عملے کو کوروناوائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانالازمی ہوگا۔

ساتواں فیصلہ یہ کیا گیا کہ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ تمام سیلون بھی کھول دی جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button