آئی ایم ایف کے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر

عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستانی معیشت کے چار زیر التوا جائزوں اور تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

آئی ایم ایف نے فروری 2021 میں پاکستان کا قرض پروگرام بحال کیا تھا، آئی ایم ایف اور پاکستان کےدرمیان ریفارم پروگرام پر اتفاق ہوا تھا۔

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے پیشگی شرائط کے طور پر گذشتہ دنوں چند شدید اقدام بھی کیے، ان اقدامات میں سر فہرست بجلی کے نرخوں میں کم از کم 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے قانونی راہ تیار کرنا تھی، 140 ارب روپے کے ٹیکس لگانے اور اسٹیٹ بینک کو قابل ذکر خودمختاری دینا شامل تھا۔

پچھلے دنوں ہونے والی قانونی ترامیم کے تحت وفاقی حکومت سے اختیارات لے کر نیپرا کو یہ اختیارات سونپ دیے گئے ہیں کہ وہ اپریل 2021 سے جون 2023 تک بجلی صارفین سے اضافی طور پر 884 ارب روپے وصول کریں۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ‏پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی قسط بجٹ سپورٹ کے طور پر جاری کی جائیگی، کل 6 ارب ڈالر میں سے آئی ایم ایف پہلے ہی دو قسطوں میں سے 1.45 ارب ڈالر دے چکا ہے۔

آئی ایم ایف کے اس نئے بحال شدہ پروگرام کو ٹریک پر رکھنا  ، خاص طور پر 700 ارب روپے سے زیادہ کی بھاری ٹیکس وصولی اور آئندہ بجٹ میں اخراجات میں کٹوتی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔

Back to top button