بھارت میں یورینیم کی غیر قانونی فروخت

پاکستان نے جمعہ کے روز ہندوستان میں یورینیم کی غیرقانونی فروخت کے ایک اور واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس طرح کے واقعات کی مکمل تحقیقات اور ان کے اثرات کو روکنے کے لئے ایٹمی مواد کی سلامتی کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیاکہ ہم نے بھارت میں 6 کلو یورینیم کی غیر قانونی فروخت کی کوشش کے ایک اور واقعے کے بارے میں رپورٹس دیکھی ہیں۔ گذشتہ ماہ ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر میں 7کلوگرام یورینیم کی فروخت  کا اسی طرح کا واقعہ اور ماضی میں اس طرح کی دیگر اطلاعات گہری تشویش کا باعث ہیں

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ "جوہری مواد کی اس طرح کھلے عام فروخت سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔

بھارت کی کمزور ریگولیٹری پالیسی

انہوں نے بھارت کی کمزور ریگولیٹری پالیسی اور جوہری مواد کی ممکنہ بلیک مارکیٹ پرسخت تشویش کا اظہار بھی کیا، دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اس موضوع پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا سراغ لگانا بھی ضروری ہے ہ یورینیم کی فروخت کی کوشش اور اسکے پیچھے کارفرما عناصر کے مقاصد کیا تھے،جوہری مواد کو ظلط سمت جانے سے روکنے کے لیے اس حوالے سے سیکیورٹی انتظامات مضبوط بنانے کا مطالبہ بھی کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ہندوستان میں پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے 6.4 کلوگرام یورینیم برآمد کیا ہے ، ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار یہ کاروائی عمل میں آئی ہے کہ بھارتی حکام نے ملک میں ایک بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ بوکارو ضلع کے مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں پیش آیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے ابھی تک اصل مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا تھا جس سے مادہ خریدا گیا تھا۔ "سات افراد کو تباہکن مادہ رکھنے اور فروخت کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا ، رپورٹ میں ایس پی چندن جھا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس کیس کی مزید تفتیش کر رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button