امریکہ کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں؟

واشنگٹن : امریکہ کے محکمہ خارجہ نے منگل کو اپنے ہتھیاروں میں موجود ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد کا انکشاف کیا ہے جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار سال قبل ڈیٹا بلیک آؤٹ رکھا ہوا تھا ۔

امریکی فوج کے پاس 30 ستمبر 2020 تک 3،750 فعال اور غیر فعال ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں ، یعنی کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 55 ہتھیار کم ہوئے ہیں ۔

یہ تعداد 1965 میں روس کے ساتھ سرد جنگ کے وقت عروج پر موجود امریکی جوہری ذخیرہ کے بعد کم ترین سطح ہے ، اس وقت کل ​​31،255 وار ہیڈز موجود تھے ۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے روس کے ساتھ ٹرمپ کے دور میں تعطل کے بعد اسلحہ کنٹرول مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے درمیان یہ تعداد منگل کو جاری کی گئی ہے ۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کے ، جوہری ذخیرے کی شفافیت میں اضافہ اسکے پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کی کوششوں کے لیے اہم ہے ۔

اس نیو سٹارٹ نے واشنگٹن اور ماسکو کے پاس موجود ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد کو محدود کر دیا ہے ، اور اس کی میعاد ختم ہونے تک دونوں طرف سے وار ہیڈز میں مزید کمی متوقع ہے ۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسا نیا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہو ، چین کے پاس صرف وار ہیڈز کا ایک حصہ ہوگا جتنے امریکہ اور روس کے پاس ہے ۔

ایک انسٹی ٹیوٹ رپورٹ کے مطابق بھارت ، پاکستان ، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس تقریبا 460 کے قریب جوہری وار ہیڈز موجود ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button