لاہورہائیکورٹ میں سیکرٹری داخلہ پیر کو طلب

لاہور : یہاں ہائیکورٹ میں کرکٹ میچز کی وجہ سے راستے بند ہونے کے معاملے کی سماعت ہوئی جس کے دوران جسٹس شاہد کریم نے نوٹس لیا کہ میچز کے لیے ٹریفک مکمل بند کرنے کی بجائے سگنل فری کرنا چاہیے کیونکہ جو آلودگی ٹریفک بند ہونے سے پھیلے گی اسے سارا سال ہم کنٹرول نہیں کرسکیں گے ۔

لہذا لاہور ہائیکورٹ نے پیر سے حکام کو میچز کے لیے مکمل ٹریفک بند کرنے سے روک دیا ہے ۔

درخواست گزار نے یہ مؤقف اپنایا کہ جب ٹریفک بند کرتے ہیں تو پندرہ لاکھ گاڑیاں پھنس جاتی ہیں ، اس پر عدالت نے سی ٹی او لاہور سے استفسار کیا کہ یہ تو ڈومیسٹک کرکٹ ہو رہا ہے اتنا بے بس کیوں کر رہے ہیں عوام کو ، بین الاقوامی ٹیمیں ڈومیسٹک کے لیے ایسی سکیورٹی دیکھیں گی تو سوچیں گی کیا ؟ ، لاہور سی ٹی او نے کہا کہ ہم تو بس ایس او پیز پر عمل کررہے ہیں ۔

سموگ شروع

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور میں اب سموگ شروع ہوچکا ہے لہٰذا ٹریفک بند نہیں ہونی چاہیے، لوگ دو دن سے ٹریفک میں پھنس رہے ہیں ، مجھے گھر جانے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے، اگرمریض نے ایمبولینس میں مرنا ہے یا ہمیں خوار ہونا ہے تو اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، یہ وجہ کم از کم قومی مفاد میں تو ہونی چاہیے ۔

شاہد کریم صاحب نے مزید کہا کہ ایسی سکیورٹی تو صدر پاکستان کے لیے ہوتی ہے لیکن اب شہر کے ساتھ یہ نہیں ہو گا ہمیں کوئی پلان بنانا ہوگا ۔

پولیس کا عدالت میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایسے ایونٹ کے لیے ہمیں ہدایات حکومت سے آتی ہیں ، اس پر عدالت کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک ایونٹ کے لیے اتنا سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ، لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے اب کوئی اپنے حقوق کے لیے یہاں بھی نہیں آتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button