حافظ طاہر محمود اشرفی کی پریس کانفرنس

 گزشتہ روز 30 مئی بروز اتوار کو تمام مسالک و مذاہب کے قائدین اور نمائندوں کا اجلاس وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی  کی زیر صدارت ہوا ۔

اجلاس کے بعد حافظ طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ  جس انداز سے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کی عوام ،علماء و مشائخ، مذہبی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں نے حکومت  کے اقدامات کی تحسین کرتے ہوئے سراہا اور بھر پور ساتھ دیا ہے  وہ قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر تو پاکستان کا موقف قیام پاکستان سے بھی پہلے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے دور کا ہے لیکن ہمارے موقف پر ہمارے اقدامات کی صحیح سمت میں انجام دہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج اگر اسرائیل کسی ریاست سے نالاں اور شکوہ کناں ہے تو وہ پاکستان ہے۔

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ کہ جو سیز فائر ہوا اور جو یونائیٹڈ نیشنز کی انسانی حقوق کانسل میں پاکستان نے او آئی سی کے ساتھ مل کر قرار داد پیش کی یہ پاکستانی قوم اور عمران خان کی سوچ ، فکر اور وژن  کا منہ بولتا ثبوت ہےاور  ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جس طرح اس  مسئلے کو اقوام متحدہ میں اسلامی ممالک کی قیادت کے ساتھ لے کر چلے ہیں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

اور انشاءاللہ آج اس فورم سے جہاں تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے قائدین بیٹھے ہیں میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اس وقت تک کھڑا ہے جب تک ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہوجاتا جسکا دارالخلافہ "اَلقُدس ” ہوگا۔

کشمیر اور فلسطین

ہم اپنے کشمیری اور فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کل بھی کھڑے تھے آج بھی کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے، تمام مذاہب کے مقدسات کے احترام  کے حوالے سے جو بعض اوقات اسلام دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کرتی ہیں اس حوالے سے  چرچوں میں ، مساجد میں اور عوامی سطح پر ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے گی ۔

الحمد اللہ گزشتہ سات ماہ میں ایک واقعہ بھی” مس یوز بلاسفیمی لا ء” کا نہیں ہوا، اس پر میں اپنے یہاں موجود تمام ساتھیوں کا بھی مشکور ہوں، مسیحی برادری کا سکھ برادری کا ہندو برادری کا اور تمام مکاتب فکر کے علماءکرام کا جنہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے قائدین سے قریبی تعلق رکھا جائے اور انکے مسائل کو حل کیا جائے اور ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کی امن کمیٹیوں کی ازسر نو تشکیل اور اس میں موثر افراد کی تعیناتی کو ممکن بنایا جائے۔

متحدہ علماء بورڈ اور تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے قائدین کے وفود مختلف شہروں اور اضلاع میں جائیں اور مقامی طور پر بیٹھ کر ان کے مسائل کو حل کریں۔

اس وقت پاکستان میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کی آئیڈیل صورتحال ہے ،الحمد للہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو ہم آپس میں بیٹھ کر حل نہ کرتے ہوں۔

ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے رواداری اور امن کو فروغ دیا جائے اسی طرح عوامی مسائل کو بھی حل کیا جائے۔

یوم عالمی ماحولیات

پاکستان 5 مئی کو یوم عالمی ماحولیات کی میزبانی کر رہا ہے لہذا علماء بھی آئندہ جمعے کے خطبات میں عوام کو ماحولیاتی بہتری کی جو تعلیمات اسلام کی ہیں ، ان سے لوگوں کو آگاہ کریں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک وفد نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم نے یہ  حکم دیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جو  پاکستان کو مدینہ منورہ کی طرز کی ریاست بنانے سے متعلق سفارشات ہیں ان پر عمل درآمد کے لیے ایک میکینیزم بنایا جائے  اور اسکو قانونی شکل دی جائے۔

وقف املاک ایکٹ ایک بہت  بڑا  مسئلہ ہے جس پر علماء مشائخ کے ساتھ ساتھ جو غیر مسلم برادری ہے اسکے بھی تحفظات ہیں  جسکے لیے عمران خان صاحب نے  وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے  جو ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے جو اقدامات  ممکن ہوں گے وہ کرے گی۔

مسجد، مدرسہ، ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت

موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ایک ترجیح اول یہ ہے کہ مسجد، مدرسہ، ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت ان حوالوں سے جو خدمات ہم سر انجام دے سکتے ہیں اس میں کوئی کمی نہ رکھی جائے۔

الحمد للہ ہمیں فخر ہے کے ہم مسجد ،مدرسہ کے چوکیدار ہیں اور بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق یہاں موجود ہر فرد کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہے۔

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی بھی شہری کے ساتھ زیادتی قابل مذمت ہے لیکن اسکی آڑ میں ملکی سلامتی کے اداروں یا پاکستان کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے ،تو یہ قابل قبل نہیں  ہے۔

جس نے بھی زیادتی کی ہو اسے  فوراً گرفتار کرنا چاہیے لیکن بغیر کسی تحقیق کے بغیر کسی بنیاد کے ملک کی سلامتی کے اداروں کو ہمیشہ کٹہرے میں کھڑا کرنا یہ کسی صورت جائز نہیں اور قوم کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جس وقت پاکستان او آئی سی کی سربراہی میں عالمی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ایک قرارداد پیش کرتا ہے "کہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظالمانہ اور مجرمانہ حملوں کی عالمی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیں”  اور یہ قرار داد منظور ہوجاتی ہے جس کے جواب میں اسرائیل پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی کرتا ہے کہ "پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں”، اسی وقت اسلام آباد میں ایک گروہ کھڑا ہوکر وہی بات کرتا ہے تو اسے کیا کہنا چاہیے کہ یہ سب جان بوجھ کر ہے یا اتفاقاً ہے یہ قوم خود فیصلہ کرے۔

دہشتگردی اور انتہا پسندی کی جنگ

اس ملک میں دہشتگردی اور انتہا پسندی  کے خلاف ہم اگر جنگ جیتے ہیں تو یہ اس ملک کی عوام ،افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کی  مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

ورنہ آج ہمارے حالات شام ،لیبیا  اور عراق سے بھی بدتر ہوتے، یہاں پر دس ہزار علماء نے  قربانیاں دی ہیں اس ملک کے امن کے لیےہماری افواج نے  لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی وہ امن محازوں پر برسر پیکار ہیں ۔

میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ آج جو لوگ ملک کے سلامتی کے ذمہ دار اداروں پر کیچڑ اچھال رہیں ،ان اداروں اور افواج پاکستان نے ان کی جانوں کو بھی محفوظ بنایا ہے۔

جو دہشتگرد اس ملک میں علماء کو صحافیوں کو میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے ملک کے سلامتی کے ذمہ دار اداروں ،پولیس اور افواج پاکستان نے انکو انکے ارادوں سمیت نیست ونابود کردیا ہے۔

میں ان لوگوں کو جو قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف وہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو آدمی اپنے گھر میں اور اپنے بچوں کے سامنے بھی استعمال نہیں کرتا  ، کہنا چاہتا ہوں کہ آپکے اس عمل سے پوری قوم کو   بہت تکلیف پہنچی ہے۔

ہم بھی یہ کہتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ جس نے بھی اسد طور صاحب پر حملہ کیا اسے سامنے آنا چاہیے اور اسے کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے ،رات وزیر داخلہ  نے ہدایات جاری کی ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری ہو اس کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو فورا  پکڑا جائے۔

بلاد اسلامیہ اور بلاد عربیہ کے  ساتھ پاکستان کے تعلقات

 وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی  نے بتایا کہ گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران تمام بلاد اسلامیہ اور بلاد عربیہ کے  ساتھ پاکستان کے تعلقات اس بہترین نہج پر پہنچے ہیں جہاں اس پہلے کبھی نہیں تھے سولہ سال بعد پاکستان سے کویت ویزے کھلے ہیں ،ہمارے وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب اس وقت کویت میں ہیں اور ہمارے وزیر خارجہ اس وقت عراق میں ہیں ۔

کویت کے امیر،مصر کے صدر اور بحرین کے بادشاہ نے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی ہے۔

ہم  صرف ایک شعبے میں نہیں بلکہ تمام شعبوںمیں ان ممالک کے ساتھ کام کر رہے ہیں  ،دینی شعبوں کی بات کریں تو لاکھوں زائرین پاکستان سے عراق اور ایران زیارت کے لیے جاتے ہیں اسی طرح سعودیہ عمرہ اور حج کے لیے لاکھوں پاکستانی جاتے ہیں اور بہت سے مقدسات مصر میں اور اردن میں  ہے لہذا پچھلے دس سال کے مقابلے میں ہمارے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔

پاکستانی قوم  کبھی بھی افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے خلاف برسر پیکار اس ایجنڈے  کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔

پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں ملک میں فسادپھیلانے کیلئےسوشل میڈیا کا سہارالیتی ہیں ،حافظ طاہر اشرفی نے کہا  کہ ہم سوشل میڈیا پر پابندی لگانے  کے حامی نہیں ہیں  لیکن ضابطہ اخلاق ضرور ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button