بہترین اسٹارٹ اپس کیلئے گرانٹ منظور

ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کی فراہمی  کے لیے دستخطوں کی ایک تقریب میں وفاقی وزیر مراد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات والوں کو ایک سال میں فور جی کی سہولت مل جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے، ای کامرس سے فائدہ اُٹھا نے کے لیے بہترین انٹرنیٹ سروس دینا ہوگی، لوگ گھر بیٹھے کاروبار کرسکیں گے۔

تقریب میں وفاقی وزیر مراد سعید کے ساتھ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات سید امین الحق نے بھی خطاب کیا۔

واضح رہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات ،ہنر مند کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لئے اہم اقدامات کررہی ہے۔

اس سلسلے میں جی ایس ایم اے انوویشن فنڈ برائے موبائل انٹرنیٹ ایڈوپشن اور ڈیجیٹل انکلیوژن نے پاکستان سے 3 اسٹارٹ اپ (44 ممالک سے موصول ہونے والی 597 اسٹارٹ اپ درخواستوں میں سے) کا اعلان کیا تھا  تاکہ وزارت آئی ٹی کے تحت جی ایس ایم اے فنڈ کے ذریعے 3 بہترین اسٹارٹ اپس کیلئے 14 کروڑ 60 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی جاسکے۔ تین کامیاب اسٹرٹ اپس میں واسیلا ، نالج پلیٹ فارم ، اوریرینڈا پاکستان شامل ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات سید امین الحق نے بدھ کے روز ایک پر وقار تقریب میں فاتحین میں اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر سکریٹری آئی ٹی ڈاکٹر سہیل راجپوت ، ممبر بین الاقوامی رابطہ اجمل اعوان ، ایم او آئی ٹی اور جی ایس ایم اے کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق نے کہا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام پاکستان میں کاروبار اور جدت کو فروغ دینے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔

موبائل نیٹ ورکنگ میں سرمایہ کاری

انہوں نے گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن ایسوسی ایشن (جی ایس ایم اے) کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان میں اب ٹیلی مواصلات کے میدان میں انقلابی تبدیلیوں کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے شعبے میں اصلاحات اور موبائل آپریٹرز کو فراہم کی جانے والی سہولیات نے پاکستان میں موبائل نیٹ ورکنگ میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کردی ہے۔

وفاقی وزیر سید امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پہلی بار  ایسی  پالیسیز کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کرایا گیا  ہےجو پچھلے 24 سالوں میں نہیں ہوسکا تھا۔

سید امین الحق نے مزید کہا کہ ملک بھر میں تھری جی اور فور جی خدمات کی فراہمی کے لئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

وزیر برائے آئی ٹی نے کہا کہ کورونا وبائی امراض نے دنیا کے معاشی اور سماجی نقشہ کو تبدیل کردیا ہے اور اب بہت سارےشعبوں میں ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں لیکن انفارمیشن ٹکنالوجی اور ٹیلی مواصلات ایک ایسا شعبہ ہے جس کا فارمولا تبدیل نہیں ہوا ہے اور اس کے استعمال اور رجحان میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے اور ہمارے نوجوانوں کو جدید ٹکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔

آئی ٹی وزیر نے کہا کہ ہمارے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی تنظیمیں بھی ایم او ای ٹی کے منصوبوں کو تسلیم کررہی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) نے آئی سی ٹی خدمات کی استطاعت کے لحاظ سے پاکستان کو بہترین ممالک میں شامل کیا۔ متعدد ٹکنالوجی شعبوں میں بہترین تکنیکی وسائل  کو مہیا کرنے کے ، عالمی فری لانس صنعت میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔

Back to top button