حکومت سندھ اور ویکسین

ملک بھر میں  ویکسی نیشن کے مرحلہ وار  مہم  کے تحت کل سے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کا بھی آغاز کردیا گیا ہے ، کراچی ،لاہور سمیت مختلف شہروں میں ویکسی نیشن سینٹرز کے باہر لمبی قطاریں لگی ہیں۔

وفاقی وزیر  برائے منصوبہ بندی اسد عمر کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے ملک میں ویکسی نیشن کا عمل ممکن ہوا اوراب تک ویکسین کا حصول 25 کروڑ ڈالر  کے قریب تک پہنچ چکا ہے۔

گزشتہ روز سندھ حکومت نے ویکسین نہ لگانے والےسرکاری ملازمین کو تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،فیصلے کا اطلاق جولائی کی تنخواہوں سے ہوگا۔

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت گزشتہ روز کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلی نے محکمہ  خزانہ کو  ہدایت کی کہ ویکسین نہ لگانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ جولائی سے روک لی جائے۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سندھ میں اب تک 15 لاکھ سے زائدافراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے،بیرون ملک سے کراچی آنے والے 26 ہزار8سو 12 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں 55 افراد کے ٹیسٹ مثبت آ ئے جبکہ 29 مئی کو چار افراد میں انڈین ویریئنٹ کی تشخیص ہوئی ہے۔

ان افراد سے 14 لوگ رابطے میں آئے ان کے بھی ٹیسٹ کیے گئے ہیں ،وزیر اعلی سندھ نے 300 بی ایچ یوزویکسی نیشن سیٹرز قائم کرنے کا حکم دے دیا جہاں روزانہ30 ہزار ڈوز لگانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے جبکہ موبائل ویکسی نیشن ٹیم کے لیے  روزانہ 60 ہزار ڈوسز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی سندھ نے  90 نجی اسپتالوں کوروزانہ  10 ہزار ڈوز لگانے کا ہدف دیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button