رنگ روڈ اسکینڈل پرحکومت اور اپوزیشن

وفاقی کابینہ کے  منگل کو ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان  نے کہا کہ رنگ روڈ اسکینڈل کی خود انکوائری کر رہا ہوں ، اگر ہم اسے نہ روکتے تو رنگ روڈ ایک بڑا اسکینڈل ہوتا۔

وزیر ہوا بازی غلام سرور سے  وزیر اعظم نے پوچھا  کہ  اسکینڈل  میں آپکا نام نہیں تھا آپ نے پریس کانفرنس کیوں کی ، جس پر وزیر  ہوا بازی نے جواب دیا  کہ  اسکینڈل میں سوشل میڈیا پر میرا نام لیا جارہا تھا لہذاوضاحت دینا ضروری سمجھا ، ایسا لگ رہا ہے میرے خلاف سازش کی جارہی ہےاورتحقیقات اور ٹی او آر بظاہر میرے خلاف ہیں۔

وزیر اعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا  پر نام لیا جارہا تھا تو سوشل میڈیا پر جواب دیتے پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت  تھی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ  رنگ روڈ اسکینڈل کی رپورٹ میں زُلفی بخاری اور  غلام سرور کا کہیں نام نہیں ، ہم نےرنگ روڈ منصوبے میں اربوں کھایا نہیں بچایا ہے۔

 ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب،عطا تارڑ،احسن اقبال اور شاہد خاقان  حکومت پر برس پڑے کہا  اگر  انصاف کا نظام ہوتا تو معاون خصوصی جیل میں ہوتے ،ہمارے پاس عمران خان کی میٹنگ کی کاپی ہے ،زلفی بخاری کو فائدہ دیا گیا ہے اور اب انہیں بچانے کے لیے استعفیٰ کا ڈرامہ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کےچیئر مین بلاول بھٹو زرداری  کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والی کرپشن  ملکی معیشت کی خراب حالت کی سب سے بڑی وجہ ہے،عمران خان وزیروں مشیروں کو قربانی کابکرا بنا کر  اپنی نااہلی  پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button