اسکول انتظامیہ کی طالبہ سے بدسلوکی

کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر 1 کے نجی اسکول میں اسکول انتظامیہ نے ساتویں جماعت کی طالبہ سے بدسلوکی کی۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ مجھے چھٹی ہونے سے ایک پیریڈ پہلے الگ کلاس میں اکیلا بٹھایا گیا۔ بیگ بھی چھین لیا گیا۔ بعد ازاں بچی کے والد کی مدعیت میں رضویہ تھانے میں اسکول انتظامیہ کی مبینہ بدسلوکی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کے والد کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدنی متاثر ہوئی تھی، میری بیٹی کی سات ماہ کی اسکول فیس باقی تھی، جس میں سے تین ماہ کی میں نے ادا کردی تھی، اسکول انتظامیہ سے ہر ماہ دوگنی فیس ادا کرکے بقایا جات ادا کرنے کی درخواست کی تھی، جو انہوں نے منظور کرلی تھی، معاملہ طے پانے کے باوجود بچی کو ہراساں کیا جاتا رہا، یہانتک کہ ایک روز مالی کے کمرے میں بند کر کے بیگ چھین لیا گیا  ،سارا سارا دن کلاس سے باہر کھڑا رکھا گیا۔

بچی کے والد نے مزید کہا ہے کہ ہم اسکول گئے تو نہ صرف بد سلوکی کی گئی بلکہ اسکول سے دھکے دے کر نکالا گیا۔

تحریکِ انصاف کی رہنما دعا بھٹو نے اسکول انتظامیہ کی بدسلوکی کا شکار بچی کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ اسکول نے دھمکی دی کہ ایڈمیشن نہیں دیا جائے گا۔ بچی کی فیس بھی ہم ادا کریں گے اور اسی اسکول میں ایڈمیشن دلوائیں گے۔

Back to top button