گھوٹکی جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہوگئی

کراچی سے جانے والی ملت ایکسپریس کی 13 بوگیاں پٹری سے اتر  کر دوسری پٹری پر جاگری تھیں جسکے بعد  راولپنڈی سے آنے والی سر سید ایکسپریس  ٹریک پر پڑی  بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

اب تک کی تازہ اطلاعات کے مطابق گھوٹکی کے قریب ریتی اور اوباروریلوے اسٹیشن کے درمیان  ہونے والے اس حادثہ میں 40 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ہیوی مشینری،ٹرین کے تباہ شدہ ڈبوں  کو کاٹنے کے لیے جدید ہائیڈرولک کٹرز اور زخمیوں کی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹرز جائے حادثہ تک پہنچا دیے گئے ہیں۔

راولپنڈی سے آرمی انجینئرز کی خصوصی ٹیم  ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جائے حادثہ پہنچی ہے جبکہ پنوں عاقل سے ملٹری ڈاکٹرز اور عملہ بھی ،  ایمبولینسز کے ساتھ وہاں پہنچ گیا ہے۔

پاک فوج نے جائے حادثہ پر امدادی کیمپ قائم  بھی کردیا ہے جبکہ  بھاری مشینوں کے ذریعے  ٹرین میں پھنسے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

حادثے میں زخمی افراد کو روہڑی ،پنوں عاقل اور سول ہسپتال سکھر منتقل  کیا جارہا ہے اور ساتھ ساتھ معمولی زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ بھی کیا جارہا ہےاورحادثے کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان  ریلوے  کی تمام سرگرمیاں معطل کردی گئیں ہیں۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر ریلوے اسلام آباد سے گھوٹکی روانہ ہوچکے  ہیں اوروزیر ریلوے اعظم سواتی نے  متعلقہ حکام سے 48 گھنٹے میں حادثے کی رپورٹ طلب کی ہے اور انکا کہنا ہے کہ ریلیف آپریشن کی نگرانی خود کروں گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور  بتایا کہ ریلوے نے 4 شہروں کراچی،سکھر،فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹرز قائم کردیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button