یکم جولائی سے گھی ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

لاہور ( رپورٹ ) حکومت نے فنانس بل کے ذریعہ بجٹ میں ٹیکس لگانے کے اقدامات کی وجہ سے یکم جولائی سے گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمتیں 18 روپے فی کلو / لیٹر تک بڑھ جائیں گی ۔

پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) نے اتوار کو اعلان کیا کہ مارکیٹ میں ان کی متعلقہ خوردہ قیمتوں کے فی الوقت حساب سے مختلف برانڈز کی قیمتوں میں 13 روپے سے لے کر 18 روپے فی کلو / لٹر تک اضافہ ہوجائیگا ۔

پی وی ایم اے کے چیئرمین عبدالوحید نے بتایا کہ بجٹ میں مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر کے مقابلہ میں 5 روپے کی کمی کا سامنا ہے جبکہ 18 روپے فی کلو ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور نئے ٹیکس اقدامات کے نتیجے میں ، گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمتوں میں مستقبل قریب میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہوگا ۔

فی الحال ، حکومت گھی اور کھانا پکانے کے تیل پر فی کلوگرام / لیٹر ٹیکس 90 روپے وصول کررہی ہے جو اس خطے میں سب سے زیادہ ہے ۔ مزید یہ کہ غیر رجسٹرڈ خریداروں ، تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں کو گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی فروخت پر تین فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ 0.1 اور 0.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس بھی ہوگا جبکہ ان پٹ سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں 90 فیصد تک اجازت دی گئی ہے ۔

سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ

پی وی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 100 فیصد تک ان پٹ سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی جائے تاکہ پوری صنعت پر یکساں ٹیرف لگا دیا جائے جبکہ تھوک اور خوردہ خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو الٹ کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اضافی سیلز ٹیکس کو ختم کیا جانا چاہئے تاکہ ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں حکومت کی خواہش کے مطابق مستحکم رہیں ۔

پی وی ایم اے نے کہا کہ ایوان میں وزیر خزانہ کی تقریر کے مطابق اہم اشیائے خوردونوش پر ٹیکس ختم کردیئے گئے ہیں جبکہ گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی صنعت پر ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے جو امتیازی فیصلہ ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button