فردوس عاشق اعوان لیڈی اے سی پر برہم

وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اتوار کے روز سیالکوٹ شہر کے ایک پرہجوم رمضان بازار کا دورہ کیا اور وہاں کھا نے کے معیار کا معائنہ کیا، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے ۔

ڈاکٹر اعوان نے ایک اسٹال پر غیر معیاری یا تیسرے درجہ کی کھانے کی اشیاء فروخت ہوتی دیکھ کر اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) سیالکوٹ سونیا صدف سے وضاحت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم موصوفہ نے وزیر اعلی کے معاون سے بحث شروع کردی، انکے دلائل سننے پر ڈاکٹر فردوس نے اپنی برداشت کھو دی اور اے سی کے تبصرے اور غفلت کے سبب غصے سے ان کو سناناشروع کردیا۔

ویڈیو میں ڈاکٹر اعوان کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ انہوں نے صوبے کے ہر شہر کے رمضان بازار کا دورہ کیا ہے اور انہوں نےسیالکوٹ کی صورتحال بدترین پائی ہے۔

حکومت بیوروکریٹک سازشوں کا شکار ہے، اگر آپ کو اے سی کے عہدے پر مقرر کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے  آپکوتنخواہ دی جاتی ہے تو لوگوں کی خدمت کے لیے میدان میں آئیں، آپ کیوں روپوش ہیں؟” ڈاکٹر اعوان نے سونیا صدف سے کہاکہ آپ کے اقدامات اسسٹنٹ کمشنر کے متضاد ہیں۔

وزیر اعلی کی معاون کی سرزنش کرنے پر ، سونیا صدف کو غصے سے بازار سے نکلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن جماعت کی لیڈر مریم نواز نے فردوس عاشق اعوان کے اس رویے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ان سے اے سی صاحبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کے جواب میں ٹوئٹ کر کے کہا کہ ان لوگوں کی ایسی باتوں کا مقصد ملک میں کرپشن کی بقاء ہے۔

ٹاپ ٹرینڈ

عوام کا ایک بڑا طبقہ  ڈاکٹر اعوان کو درست قرار دے رہا ہے  اور انکے مقابلہ کا امتحان پاس کیے ہوئے ان افسران کو عہدوں سے وابستہ انکی عوام کی طرف جوابدہی  کو یاد دلانے کے اقدام کی پذیرائی کر رہا ہے، اسی وجہ سے  ٹوئیٹر پریہ موضوع ٹاپ ٹرینڈز میں سے ہے۔

Back to top button