وفاقی وزیر تعلیم کا حتمی فیصلہ

آج بین الصوبائی وزارت تعلیم کمیٹی (آئی پی ای ایم سی) کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم  شفقت محمود نے پریس کانفرنس میں خطاب کیا اور   اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے قوم کو آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر تعلیم نے سب سے پہلے تو اس بات کی وضاحت کی کہ  بین الصوبائی وزارت تعلیم کمیٹی (آئی پی ای ایم سی) وہ ایک فعال ادارہ بن کے سامنے ابھری اور جتنے بھی فیصلے گئے ،وہ سارے کے سارے متفقہ طور پر کیے گئے مثلاًتعلیمی ادراے بند کب ہوں گے،تعلیمی ادارے کھلیں گے کب، امتحانات میں کیا ہوگا،یہ سارے فیصلے متفقہ طور پر چاروں صوبوں  اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزراء تعلیم کے  مشترکہ  مشورہ سے ہوئے اور  سب کی مشترکہ سوچ کی وجہ سے  ہمارے لیے مشکل حالات میں صحیح فیصلے کرنا ممکن ہوا۔

 انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بغیر امتحان کے بچوں کو پاس کرنے کا تجربہ سامنے رکھتے ہوئے تمام تعلیمی وزراء نے  فیصلہ  کیا کہ امتحان ہر صورت ہوں گےاور یہ فیصلہ ہم نے پچھلے سال دسمبر کے آخر میں کیا تھا اور اس پر ہم آج تک قائم ہیں،اس فیصلے کی کئی وجوہات تھیں:

پہلی وجہ

 پہلی  وجہ تو ہمارا پچھلے سال کا تجربہ تھا اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کے سب سے نتیجہ خیز امتحان وہ انٹرنل امتحان ہے،کیونکہ دوسری صورت  میں کسی اسکول میں کوئی ٹیچر زیادہ کھل کرنمبر دے دیتا ہے کوئی نہیں دیتا ، تو سارا ایک پیمانہ نہیں ہوتا۔

ایکسٹرنل امتحانات کا پیمانہ ایک ہوتا ہے،لوگ انگلینڈ کی مثال دیتے ہیں ،ابھی حال ہی میں انگلینڈ میں ایک معاملہ اٹھا ہے کہ والدین ٹیچرز پر کیس کرنے لگے ہیں کہ انکے اسکول امتحانات کے گریڈ پر انکو اعترض ہے۔

 انٹرنل امتحان پر اعتراض کیا جاسکتا ہے لیکن ایکسٹرنل امتحان جو ہوتا ہے اس پر لوگ اعتراض نہیں کرسکتے،کیونکہ ایکسٹرنل امتحان ایک ایسا پیمانہ ہے جو سب کے لیے برابر ہے۔

دوسری وجہ

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے اردگرد اکثریت طلباء کی وہ ہے جو امتحان سے پہلے آخری ڈیڑھ دو مہینے میں پڑھتے ہیں  ،آپ سب طالب علم رہےہیں ،میں بھی طالب علم رہا ہوں  ،ہمیں پتہ ہے کہ امتحان قریب آتا تھا تو پڑھائی شروع ہوتی تھی اس سے پہلے نہیں  ہوتی تھی،لہذا امتحان کا نہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ جو پڑھائی تھوڑی بہت ہوتی بھی تھی وہ بھی نہیں ہوگی،اس لیے ہمارا فیصلہ ہے کہ امتحان ضروری ہوں گے کیونکہ اس سے جو تدریسی نقصان ہورہا ہے اس میں کمی آئے گی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیمبرج کے امتحان شروع ہونے کا وقت آیا تو ایک دم کورونا وبا کی شدت میں اضافہ ہوگیا لیکن ہم نے پھر بھی اے ٹو  کاامتحان لیا ،کوئی 25 سے 30 ہزار بچوں نے وہ امتحان  دیا اور اب وہ اختتامی مراحل میں ہے،الحمد للہ بخیر و عافیت ہوا،اگلے چند دن میں وہ مکمل ہوجائے گا ۔

اسی طرح او لیول کے بچوں کے لیے کیمبرج نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک اسپیشل امتحان لیں گےجو 26 جون سے شروع ہوکر 6 اگست  تک ختم ہوں گے۔

تیسری وجہ

اس وقت پاکستان میں کورونا کیسز میں  مسلسل کمی ریکارڈ کی جارہی ہے لہذا  اس وقت میں امتحان کا انعقاد کرنا ممکن ہے ۔

طلباء کا اعتراض اور اسکا جواب

طلباء کا جو ایک اعتراض ہے اور جو  واقعتاً درست بھی کہ چونکہ  تعلیمی ادارے کھلتے اور بند ہوتے رہے جسکی وجہ سے نصاب  مکمل نہ ہوسکا اور امتحانات کی تیاری بھی آن لائن تدریسی نظام کی وجہ سے نہ ہوسکی تو امتحانات کی تیاری اس مختصر وقت میں کرنا انتہائی مشکل ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یہ اعتراض حقیقت پر مبنی ہے اور اسکے تدارک کے لیے ہم نے چند فیصلے کیے ہیں جس سے طلبہ کو امتحانات کی تیاری اور امتحانات دینے میں آسانی ہوگی۔

پہلا فیصلہ

شفقت محمود نے کہا کہ چونکہ کورونا کے باعث اداروں میں پڑھائی کا سلسلہ بہت کم ہو ا تو چند مہینے پہلے ہم نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ   سلیبس کو 40 فیصد تک گھٹا دیا جائے لہذا اس ریلیف میں مزید توسیع کرتے ہوئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے  نویں اور دسویں جماعت کے صرف انتخابی  مضامین اور حساب کے مضمون کے  امتحانات لیے جائیں گے اور گیارہویں اور بارہویں کے صرف انتخابی مضامین کے امتحانات لیے جائیں گے۔

دوسرا  فیصلہ

بورڈز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ تمام امتحانات 10 جولائی کے بعد لیے جائیں تاکہ طلباء کو تیاری کا وقت تھوڑا اور مل جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button