فلمی اداکار سعید خان عرف رنگیلا کی 16 ویں برسی

پاکستان فلم انڈسٹری  کے عروج کے دور کے مشہور اداکار  سعید خان  عرف رنگیلا کا انتقال ہوئے 16 سال ہوچکے ہیں لیکن انکی یادگار اداکاری کے نقش آج بھی لوگوں کے دلوں  پر موجود ہیں۔

 سعید خان 1937 میں افغانستان کے شہر ننگر میں پیدا ہوئے تھے بچپن میں ہی والدین کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اورجوان ہونے  کے بعد وہ اپنی بہن کے ساتھ  پشاور منتقل ہو گئے۔

دلپ کمار کی فلم دیکھنے کے بعد  اداکاری میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا  اسکے لیے  وہ لاہور منتقل ہوگئے ۔

لاہور  آکر لالی ووڈ کے سنہرے دنوں میں انہوں نے پینٹر آزاد کے ساتھ فلموں کے بل بورڈ بناتے ہوئے  نگار خانوں تک رسائی حاصل کی اور اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اس بات کو بھانپ لیا کہ بطور ہیرو وہ فلم انڈسٹری میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے لہذا انہوں نے کامیڈین کے طور پرکام کا آغازکیا۔

رنگیلا کیئریر کی ابتداء

رنگیلا نے ایک مزاحیہ کردار ادا کیا جس نے فلم انڈسٹری میں ان کے لئے بہت سے دروازے کھول دیے، ابتداء میں انہوں نے فلم  داتا ،چوڑیاں، نوراں اور موج میلہ میں  چھوٹے موٹے مزاحیہ کردار نبہائے۔

ان کے کیریئر کی پہلی فلم ایک پنجابی فلم تھی جس کا نام تھا ’جٹ ‘ تھا،اس فلم کے بعد1963 میں انہوں نے  فلم داغ  اور ہٹ جوڑی میں مزاحیہ کرداروں میں خوب پزیرائی کے بعدصرف مزاحیہ کردار ادا کیے اور انہیں لالی ووڈ کے بہترین  اور ہر دلعزیزاداکار بننے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

کیریئر کے اس موڑ پر انہیں منور ظریف کا ساتھ ملا  اور انکی اس جوڑی  کو فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھاجانے لگابلکہ کچھ فلموں میں تو یہ دونوں اداکار بطور ہیرو  نظر آئے۔

لیجنڈ اداکار نے اپنے کیریئر کے دوران 650  سے زائد فلموں میں کام کیا ،جن میں 245 اردو ،385 پنجابی  اور 19 پشتو فلمیں شامل ہیں اور انہیں پاکستان میں  فلمی مزاح کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے،انکی مشہور فلموں میں رنگیلا،پردے میں رہنے دو،ایماندار،دل اور دنیا،دور رنگیلے اور انسان اور گدھا شامل ہیں۔

انہوں نے تقریبا چار دہائیوں تک شوبز میں کام کیا اور انہیں پورے ایشیاء کے ایک اعلی مزاح نگاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

وہ داکار کے علاوہ گلوکار،مصنف ،ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی تھے،بطور پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی انکی  صلاحیتوں نے خوب دادوصول کی،انہوں نے ایک گیت "گا مورے منوا گاتا جا رے "بھی خود ہی گایا جو مداحوں کے ذہنوں میں آج بھی موجود ہے۔

رنگیلا کے گیت

اس فنکار نے بہت سے گانوں کو بھی لکھا تھا جو بہت مشہور  ہوئے تھے اور گیت لکھنے کے اس فن کے ذریعہ انہوں نےاداکاری  سے بھی زیادہ تعریف حاصل کی تھی۔

مزید یہ کہ فلمی صنعت میں اپنی خدمات کے لئے ، رنگیلا کو سنیما کے میدان میں عمدہ کارکردگی پر 2005 میں ایوان صدر میں پرائیڈ آف پرفارمنس اور نگار ایوارڈسمیت متعدد ایوارڈز ملے۔

رنگیلا کی تین بار شادی ہوئی تھی اور ان کے 14 بچے ، 6 لڑکے اور 8 لڑکیاں ہیں۔

معروف اداکار کا 24 مئی 2005 کو 68 سال کی عمر میں  گردوں کے عارضے کا باعث انتقال ہوگیا اور پاکستان فلم انڈسٹری میں چار دہائیوں سے زیادہ طویل عرصہ تک جاری رہنے والے مزاحیہ کیریئر کے بعد لاکھوں مداح سوگوار ہوگئے۔

رنگیلا کے نام سے مشہور لیجنڈ مزاح نگار محمد سعید خان کی 16 ویں برسی کل لاہور میں منائی گئی۔

ساتھی ستاروں کا کہنا تھاکہ رنگیلاوہ شخص تھا جس نے مزاح کے انوکھےانداز سے دنیا کو متاثر کیا ، جس نے درجنوں ایوارڈز اور دل جیت لئے۔ اس وقت لالی ووڈ میں رنگیلا جیسا کوئی نہیں ہے۔ وہ ایک سادہ آدمی تھا لیکن خدا داد صلاحیتوں سے مالا مال تھا۔ سینئر فلم ڈائریکٹر الطاف حسین نے کہا کہ "رنگیلانے واقعی میں انڈسٹری میں تقریباچار دہائیوں تک حکمرانی کی ، انہوں نے ہر فلمی میدان  میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، خواہ وہ اداکاری ، تحریر یا پروڈکشن ہو”۔

سینئر فلم اداکارہ دردانہ رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  سعید خان رنگیلا کی یادیں میرے ذہن میں اب بھی بہت تازہ ہیں ، حالانکہ ان کے انتقال کوبھی اتنا عرصہ گزر چکا ہے۔

Back to top button