فیفا : پاکستان کی رُکنیت معطل کرنے کا عندیہ

کوئی ڈیڑھ دو دہائی قبل پاکستان فٹبال میں ایشیا کی بہترین ٹیم کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن جہاں دنیا میں اس کھیل کا عروج بڑھنے لگا وہیں پاکستان میں پیسوں اور عہدوں کی لالچ نے اس کھیل میں پاکستان کی شناخت کو بلکل معدوم کردیا۔

پاکستان فٹبال میں کئی سالوں سے جاری بحران کے پیش نظر ستمبر 2019 میں فیفا نے پاکستان میں نارملائزیشن کمیٹی کا تقرر کردیا تھا، اس تقرری کے نتیجے میں 2003 سے پی ایف ایف  کے اختیارات حمزہ خان کی زیر سربراہی باڈی کو سونپ دیے گئے تھے، گذشتہ سال دسمبر میں حمزہ خان مستعفی ہوگئے تھے ، جس کے بعد ہارون ملک نے نارملائیزیشن کمیشن کی باگ دوڑ سنبھالی تھی ۔

کچھ عرصے بعد ہی  اشفاق گروپ نے یہ کہکر الیکشن کے مطالبات شروع کردیے کہ نارملائیزیشن کمیٹی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور وہیں سے ایک بار پھر   اختیارات میں کھینچا تانی کے جنگ شروع ہوئی جو تاحال جاری  ہے۔

28 مارچ کو پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے دفاتر پر اشفاق حسین گروپ کے قبضہ کرنے اور ہارون ملک اور عملے کو بے دخل کرنے کے واقعے کے بعد پاکستان میں فٹبال کی موجودہ حیثیت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

 گذشتہ روزفیفا نے پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون ملک کے نام خط میں کہا ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی پاکستان فٹبال کے معاملات ہارون ملک کی سربراہی میں چلانے کی پابند ہے۔

فیفا نے تنبیہ کرتے ہوئے  صورت سامنے رکھی ہے کہ اگر بدھ 31 مارچ کی رات تک فیڈریشن کا چار ج ہارون ملک کے حوالے نہ کیا گیا تو پی ایف ایف کے فٹبال ہاؤس میں دراندازی کا معاملہ کانگریس اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور پی ایف ایف  کی فیفا رکنیت بھی معطل کی جاسکتی ہے۔

Back to top button