فضل الرحمٰن کی شہباز شریف کے فیصلے کی تائید

اپوزیشن  لیڈر شہباز شریف نےانتخابی اصلاحات کے قانون پر بات  چیت کے لیے اے پی سی(آل پارٹیز کانفرنس)بلانے کا فیصلہ کرلیا  ہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اعلان  کیا ہےکہ آئین اور الیکشن کمیشن پر قد غن لگانے والا قانون چیلنج کریں گے ،حکومت نے بات کرنے کی اجازت دیے بغیر انتخابی اصلاحات کا بل منظور  کرایا،بات کیے بغیر بل  کی منظوری سے حکومت کے عزائم واضح ہیں۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری  کہتے ہیں اپوزیشن لیڈر انتخابی اصلاحات کا معاملہ پارلیمنٹ سے باہر طے کرنا چاہتے ہیں،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے ووٹر کو ٹھوکر مار کر پارلیمنٹ سے باہر چلے گئے۔

انہوں نے  اپوزیشن پار ٹیوں پر مزید وار کیا اور کہا کہ شہباز شریف کا پارٹی پر کنٹرول نہیں ،مولانا کی دلچسپی سسٹم اُلٹنے میں ہے، پیپلز پارٹی جمبہوریت کی چیمپین بنتی ہے اور سب سے پہلے جمبہوری سوچ کی مخالفت کرتی ہے۔

بد ذائقہ ڈش

پی ڈی ایم کے بارے میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی بد ذائقہ ڈش اپوزیشن جماعتیں خود بھی نہیں چھک سکتی ہیں،تمام جماعتیں دم توڑتی  تخت نشینی کی لڑائی کا حصہ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات  کے لیے آل پارٹیز کا نفرنس بلانے کی تجویز دی ہے ،ہم اسکی تائید کرتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک میں ہر حلقے میں لچے لفنگوں کو دھاندلی کے ذریعے اٹھا کر پارلیمنٹ میں بٹھا دیا گیا ہے لہذا بات کس سے کی جائے، کوئی باصلاحیت لوگ اور اس قابل لوگ تو ہوں  کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر آدمی بات کرے۔ جس طرح کی انہوں نے زبانیں استعمال کی ہیں ،جس طرح کا انکا رویہ ہے، یہ لوگ کسی باوقار مجلس میں بیٹھنے کے قابل نہیں ہیں۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کی مخالفت کردی،انہوں نے کہا کہ چند لمحوں میں رات کے اندھیرے میں  کی گئی قانون سازی قبول نہیں ۔

انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے انتخابی اصلاحات کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button