فرخ حبیب کا بلاول زرداری کو جواب

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی  معمولی تنخواہ والوں پر معاشی بوجھ ڈالنا چاہتی ہے اور پیپلز پارٹی عام آدمی کو کچلنےکی سازش ناکام بنائے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان امیروں سے ایم این ایس ٹی اسکیمز اور غریبوں سے ٹیکس وصولی  کرکے عوام دشمنی ثابت کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کے معاشی جرائم کبھی معاف نہیں کیے جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ملازموں سے معاشی بجٹ تیار کرانے والے عمران خان بتائیں ،معاشی ٹیم کہاں گئی۔

بلاول نے طنز کیا کہ چوتھا بجٹ پیش کرنے سے پہلے عمران خان تیسرا وزیر  خزانہ پانچواں سیکریٹری تجارت لے آئے اور اس  ہیرپھیر پر عمران خان اپنے مداحوں سے تو  واہ واہ سمیٹ سکتے ہیں لیکن عوام انکے معاشی خوشحالی کے  جھانسے میں نہیں آئیں گے۔

دوسری جانب وزیر توانائی فرخ حبیب نے  بلاول زرداری کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیا  مالی سال22-2021 کا

بجٹ عوام دوست ہوگا ۔

معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کے باوجود ایف بی آر نے 4143 ارب ٹیکس اکٹھا کیا۔

سندھ میں بگڑتی ہوئی صورتحال

انہوں نے کہا بلاول صاحب آپکے پیٹ میں عوام کا نہیں اقتدار کا درد ہورہا ہے،سندھ میں کئی دہائیوں سے 40 سے 60 فیصد کوٹہ سسٹم پر عمل نہ ہوسکا،سندھ کے گنجان آباد علاقے کچرے اورسوریج کے پانی سے بھرے پڑے ہیں لیکن سندھ حکومت ان حالات میں بھی سنجیدہ اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ بلاول صاحب سندھ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے، کراچی کے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت کیوں خراب ہے۔

محکمہ بلدیات،فائربریگیڈ ،ریسکیو،لینڈ،صحت اور شعبہ تعلیم کی حالت زار کیوں خراب ہے۔

مزید براں بدھ کے روز اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں تیزی سے ترقی کی شرح کی وجہ سےاپوزیشن خوف زدہ ہے۔ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگلے سال ملک کی معاشی نمو کی شرح 5 فیصد سے زائد ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر جو ایک مختصر مدت کے لئے وزیر خزانہ بھی رہے ،انہوں نے کہا کہ 2023 تک پاکستان کی مجموعی مقامی مصنوعات (جی ڈی پی) کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

وفاقی وزیر نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کو دھوکہ دینا بند کریں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے دور حکومت میں ہونے والی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑھتی افراط زر کو روکنے کے لئے مختلف  ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button