فاروق ستار کی ہوٹل میں رہائش

سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ ) کی جا نب سے گزشتہ ہفتے کےدوران ایک کاروائی کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے عسکری کارندوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کارندوں کا تعلق  بھی بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے ساتھ سامنے آیا تھا۔

ان گرفتار کارندوں میں سے دو   کارندوں نعیم خان اور عمران احمد کی جانب سے فاروق ستار اور انیس ایڈووکیٹ کا  ان کے سہولت کار ہونے سے متعلق انکشاف کیا گیا تھا،ملزمان کا کہنا تھا کہ "را” سے انکے رابطے ان افراد نے کروائے تھے۔

جس پرسی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ )نے فاروق ستار اور انیس ایڈووکیٹ کو  گزشتہ روز  "را  "سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں سے رابطے  کے الزام میں تفتیش کے لیے   اورتمام تر شواہد کے ساتھ سی ٹی ڈی سول لائنز میں طلب کیا تھا،دونوں رہنماؤں کو ایم کیو ایم کے گرفتار دہشتگردوں  سے تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

طلبی کا نوٹس

سی ٹی ڈی کی ٹیم نے فاروق ستار کے گھر جاکر طلبی کا نوٹس 12 بجےدیا تھا،جو ممبر او آر سی اسلم بھٹو نے وصول کیا تھا ،نوٹس وصولی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا  تھا کہ اطلاعات مل رہی تھیں  کہ سی ٹی ڈی والے آرہے ہیں لیکن  ان سے قبل میڈیا پہنچ گیا ، مجھے انکے آنے کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوٹس میں جن دو لوگوں کا نام ہے ان میں سے ایک ایم کیو ایم بہادر آباد سے منسلک ہے ،رہنما تنطیم بحالی کمیٹی نے کہا کہ میری ہوٹل میں رہائش والی بات بے بنیاد ہے ، یہ سب خبریں میرے کامیاب جلسے کا رد عمل ہے۔جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے سوال ہی نہیں ہوتا کہ انکا تعلق تنظیم بحالی کمیٹی ایم کیو ایم سے ہو۔

فاورق ستار نے کہا کہ سہولت کاری کا الزام تو وزیر اعلی پر بھی ہے،وزیر اعلی پیش ہوں گے تو میں بھی پیش ہوجاؤں گا۔

بعد ازاں فاروق ستار دوپہر سوا 12 بجے سی ٹی ڈی سول لائنز میں پیش ہوئے اور  ان سے سی ٹی ڈی انسپیکٹر ظفر عباس نے تفتیش کی ، واپسی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ  ایف آئی آر میں الحمد للہ ہم لوگ نہیں ہیں،مجھے نہیں لگتا کہ کاؤنٹر ٹیررزم نے مجھ پر کوئی الزام لگایا ہے،نوٹس میں لکھا ہوا  ہےکہ دو ملزمان نے”جن پر الزام ہے””جن کی ایف آئی آر کٹی ہے”انہوں نے اپنی تفتیش میں کہیں کہیں آپکا حوالہ اور نا م دیا ہے،تو ہم اس کی تصدیق چاہتے ہیں ۔

فاروق ستار نے واضح کیا کہ کسی میٹنگ سے کسی معاملے سے نہ کوئی ایسا واسطہ ہے ،نہ تھا ،نہ ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button