امتحانات : طلباء اور حکومت کے درمیان متنازع

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی  اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کے  کل (ہفتہ کے روز) ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ تعلیمی ادارے ازسر نوتدریسی سرگرمیوں کا محفوظ  آغاز کرسکتے ہیں ،صوبوں کو 31 مئی سے 10ویں  اور بارہویں جماعت    کے مشروط آغاز کی اجازت دے دی گئی ہے۔

10 ویں تا بارہویں جماعت کے امتحانات  23 جون تا 29 جولائی ہوں گے ،اسد عمر نے شعبہ تعلیم سے وابستہ   افراد کی ویکسی نیشن 10 جون تک مکمل کرنے  کی ہدایات  بھی جاری کیں۔

طلباء سراپا احتجاج

امتحانات کے حکومتی فیصلے کے خلاف  نویں ، دسویں ،گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء نے راولپنڈی میں فیض آباد چوک پر دھرنا دیا ۔

فیصل آباد میں بھی امتحانات کے انعقاد کے خلاف  طلباء نے مظاہرہ کیا۔

ابتدائی طور پر تو  فیض آباد چوک پر دھرنا   پر امن رہا لیکن آہستہ آہستہ اس میں شدت آنا شروع ہوگئی  اور طلباء نے ٹریفک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردی اور توڑ پھوڑ بھی کی جسکے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ شروع کردی۔

طلباء کی جانب سے  پتھراؤ اور ایکسپریس وے بند ہونے  کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،مظاہرین نے ایک کار کو روک کر اسے زد کوب کا نشانہ بنایا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے میں جب  ٹریفک پولیس ناکام رہی تو اس نے شیلنگ شروع کردی اور  بہت سارے مظاہرین کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار بھی کرلیا۔

مظاہرین کے مطالبات

طلباء اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں امتحانات سے متعلق اپنے فیصلوں  پر نظر ثانی کریں ۔

درسگاہیں بند ہونے کے باعث امتحانات کی تیاری نہیں ہوئی ہے لہذا امتحانات کے بغیر اگلی جماعت  میں ترقی دے دی جائے۔

اگر امتحانات لینا  نا گزیر ہیں تو امتحانات آن لائن لیں کیونکہ پڑھائی بھی توآن لائن ہوئی ہے ۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لے گی احتجاج جاری رہے گا اور یہ احتجاج ملک کے ہر حصے میں ہوگا۔

دوسری جانب وفاقی اور صوبائی وزراء تعلیم کی جانب سے  موقف سامنے آیا ہے کہ اس سال ہر صورت امتحانات ہوں گے اور بغیر امتحان کسی کواگلی کلاس میں ترقی نہیں  دی جائےگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button