ہر کردار نبھایا لاجواب

کردار کوئی بھی ہو دلیپ کمار نے اسے نبھانے میں پورا انصاف کیا،اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیسے کرنا ہے دلیپ کمار بخوبی جانتے تھے۔انہوں نے 6 دہائیوں تک تنہا فلم کی دنیا پر راج کیا۔ جذبات سے بھر پور مکالموں کی ادائیگی میں دلیپ کمار کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

انہوں  نے 60 سالہ کیریئر میں صرف 65 فلموں میں اداکاری کی اور اداکاری کے فن کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔

کردار میں جان ڈالنے کے لیے زبانیں سیکھیں، ستار بجانا سیکھا ،یہانتک کہ تانگے والے کا کردار ادا کرنے کے لیے تانگا چلانا بھی سیکھا۔فلم جوار بھاٹا سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔

دیوداس کے روپ میں ایسا المیہ طاری کیا کہ بنگالی ناول کا کردار امر ہوگیا۔ انکی ہر فلم نے مداحوں کے دل جیت لیے۔ شہزادہ سلیم، سخت مزاج انسپکٹر اور ذمہ دار شوہر کا کردار خوب نبھایا۔

رومانس کی بات کریں تو دلیپ کمار اور مدھو بالا کی جوڑی کا کوئی جوڑ ہی نہیں۔ کردار کوئی بھی ہو دلیپ کمار اس میں ڈوب جاتے تھے، کبھی شہزادہ سلیم  تو کبھی دیوداس ، ہر کردار میں امر ہوگئے۔

کرداروں میں ایسی جان ڈالی کہ نئے اداکاروں کے لیے مثال بن گئے۔ ایک فلم میں ستار بجانے کے لیے اپنی انگلیاں زخمی کرلیں۔ مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کے کردار نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا، شہزادہ سلیم کا کردار انکی زندگی کا یادگار کردار بن گیا۔

لازوال کردار

نیا دور، گنگا جمنا ،کرما، سنگدل، امر، آن ، انداز ، نیا دور ، آزاد ،،مدھومتی ، سوداگر اور کرانتی جیسی شہکار فلموں نے لیجنڈ بنا ڈالا۔ انہیں فلم جگنو میں لازوال کردار نبھانے پر ٹڑیجڈی کنگ (شہنشاہ جذبات) کا خطاب ملا تو کلاسک فلم انداز نے دلیپ کمار کو سپر اسٹار بنادیا ۔

دلیپ صاحب نے 1998 میں فلم قلعہ میں ادکاری کے بعد فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا، انکی ڈائیلاگ کی ادائیگی ،ہیئر اسٹائل اور مسکراہٹ برسوں یاد رہے گی۔ بالی ووڈ میں اداکار تو بہت سے ہیں لیکن دلیپ کمار جیسا لیجنڈ شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ عظیم ترین فنکار کو پاکستان اور بھارت کے اہم ترین اعزازات سے نوازا گیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button