عید کے دوران ، گیس کا بحران

سوئی ناردرن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا بھر میں سی این جی اسٹیشنز  کو گیس کی فراہمی بند کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق گیس کی فراہمی بند ہونے سے دونوں صوبوں میں سینکڑوں سی این جی اسٹیشنزغیر معینہ مدت تک بند ہوگئےہیں۔ جس سے ٹرانسپورٹرز کی مشکلات بڑھ گئ ہیں۔

پنجاب بھر میں سی این جی اسٹیشنز  کے ساتھ ساتھ  انڈسٹری کو بھی گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔تاہم آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی جانب سے گیس بندش کا فیصلہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن  کے ترجمان کےمطابق  گیس کی بندش سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوں گے۔حکومت نا تو خود ایل این جی کی ضرورت پوری کرتی ہے نا ہی انہیں اپنے طور  پر منگوانے دیتی ہے۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ  سی این جی سیکٹر کے ساتھ مذاق بند ہونا چاہیے۔ایسوسی ایشن کے رہنما غیا ث پراچہ کا کہنا ہے کہ سوئی ناردرن نے تمام سی این جی اسٹیشنز ایل این جی کی قلت کے باعث بند کیے ہیں۔

 فیصلہ قبول نہیں۔ پٹرولیم ڈویژن، پاور ڈویژن کے دباؤ کے تحت ایسے فیصلے کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب کا فیول بند کر کے پاور سیکٹر کو دیا جا رہا ہے تاکہ درآمدی ایل این جی کی قلت پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔

غیاث پراچہ  کا یہ بھی کہنا ہے کہ عید کے موقع پر لوگوں کو اپنے گھروں کو جانا ہوتا ہے، انہوں نے پہلے پیٹرول مہنگا کر دیا اور پھر رہی سہی کسر سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کر کے پوری کر دی ۔

گیس سپلائی بند

 ذرائع ایس این جی پی ایل  کا کہنا ہے کہ فی الحال آئندہ پیر تک خیبر پختونخوااور پنجاب میں جنرل انڈسٹری اور سی این جی اسٹیشنوں کو گیس سپلائی بند کی گئی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ  ہو سکتا ہے ان سیکٹرز کو گیس کی فراہمی عید کی چھٹیوں کے بعد تک بھی ممکن نا ہو۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی  عید کے موقع پر سی این جی کی فراہمی معطل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بحران کے پیچھے پی ٹی آئی کی دولت کمانے کی ہوس  اور نا اہلی ہے۔

اُدھر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 3.75 فیصد گیس پاور سیکٹر کو دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا چائنا حب پاور پلانٹ پر آسمانی بجلی گرنے سے پیداوار متاثر ہوئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button