افغان لڑکی کے اغوا کا ڈرامہ

اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا معاملہ ڈرامہ نکلا۔لڑکی کے متضاد بیانات اور سی سی ٹی وی  کیمروں کے ریکارڈ نے ڈرامے کا پول کھول دیا۔

تفتیشی ٹیموں نے افغان سفیر اور انکی بیٹی سے ملاقات کی اور افغان سفیر کی بیٹی سے وقوعہ سے متعلق  سوالات کیے۔ متاثرہ لڑکی کسی بھی سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔

تفتیشی ٹیموں نے لڑکی سے سوال پوچھا آپ راولپنڈی کیا کرنے گئی تھیں؟

لڑکی نے جواب دیا  :مجھے نہیں معلوم۔

تفتیشی ٹیم نے لڑکی سے سوال کیا کہ کیا آپ دوران سفر ٹیکسی ڈرائیوروں سے گفتگو بھی کرتی رہیں؟

لڑکی نے پھر وہی جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔

تفتیشی ٹیم نے سوال کیا کہ کیا آپ نے دامن کوہ پر انٹرنیٹ کا بھی استعمال کیا؟

لڑکی نے جواب دیا:اغوا کاروں نے موبائل لے لیا تھا۔

تفتیشی ٹیم نے کہا کہ سیف سٹی  فوٹیج سے نظر آرہا ہے کہ موبائل آپکے پاس ہے؟

افغان سفیر کی بیٹی اس بات پر خاموش رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی نے موبائل ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے تفتیشی ٹیم کے حوالے کردیا ۔موبائل ٹیکنیکل تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ لڑکی کی نقل وحرکت کی چھان بین جاری ہے۔لڑکی جہاں جہاں گئی اسکی جیو فینسنگ کر لی گئی ہے۔

لڑکی کو گھر سے لے جانے والے ٹیکسی کے ڈرائیور سے بھی سوالات کیے گئے ہیں۔لڑکی کئی ٹیکسیوں میں مختلف جگہوں پر گئی ،حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

دوسری جانب افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا  اور تشدد کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج کر لیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق مقدمے میں اغواء ،تشدد اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمہ سیلسیلہ علی خیل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔لڑکی کا بیان ہے کہ گھر سےکچھ فاصلے سے ٹیکسی میں سوار ہوکر شاپنگ کرنے گئی۔

واپسی میں ایک اور ٹیکسی پر سوار ہوئی۔کچھ دیر بعد ٹیکسی رک گئی اور اچانک  ایک شخص آکر گاڑی میں بیٹھ گیا۔نامعلوم شخص نے تشدد کرنا شروع کیا اور لڑکی بے ہوش ہوگئی۔

آنکھ کھلی تو وہ گندگی کے ڈھیر پر تھی۔گھر کے بجائے پارک چلی گئ۔والد کے آفس عملے کو بلایا وہ اسےگھر لے کر گئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button