دلیپ کمار ہسپتال میں زیر علاج

اتوار کی صبح ہندوستان کے مشہور فلمی  اداکار دلیپ کمار کو سانس لینے میں دشواری کی شکایت کے بعد ممبئی کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

ان کی اہلیہ اداکارہ سائنا بانو نے بھی اسی  امر  کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں پی ڈی ہندوجا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

 دلیپ کمار کے علاج سے متعلق آگاہی ،ان کے آفیشل ٹوئٹڑ ہینڈل سے بھی فراہم کی گئی تھی جہاں پوسٹ کیا گیا تھا کہ”دلیپ صاحب کو معمول کے ٹیسٹ اور چیک اپ کے لئے پی ڈی ہندوجا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ ڈاکٹر نتن گوکالے کی سربراہی میں میڈیکل اسٹاف کی ایک ٹیم ان کی دیکھ بھال  اور علاج معالجہ کر رہی ہے۔ براہ کرم دلیپ صاحب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور براہ کرم حفاظتی تدابیر اختیار کریں”، یاد رہےدلیپ کمار کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ ان کے مینجر کے تحت چلتا ہے۔

ذرائع سے حاصل کی گئی تفصیلات کے مطابق دلیپ کمار کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتو انہیں اتوار کی صبح ساڑھے آٹھ بجے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔  ان کی اہلیہ سائرہ بانو کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے ہیں اور ان کے چند ٹیسٹ کروائے گئے ہیں اور ہم ان ٹیسٹوں  کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ سائرہ نے لوگوں سے کہا کہ وہ دلیپ صاحب کے لیےدعا کریں تاکہ وہ جلد سے جلد مکمل صحتیاب ہوجائیں ۔

اہلیہ سائرہ بانو

گذشتہ ماہ بھی 98 سالہ اداکار دلیپ کمار کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی انکی اہلیہ سائرہ نے کہا تھا کہ یہ معمول کی جانچ پڑتال کے لئے تھا۔ لیجنڈری اداکار پچھلے کچھ سالوں سے بیمار ہیں اور اکثر چیک اپ کے لئے اسپتالوں میں  لے جایا جاتا ہے۔ جب بھی وہ کسی اسپتال میں داخل ہوتے ہیں ، ان کی اہلیہ سائرہ بانو انکی صحت کی حالت کے بارے میں سب کو اپ ڈیٹ کرتی ہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر جلیل پارکر جو دلیپ کمار کا علاج کر رہے ہیں نے کہا  ہےکہ دلیپ کمار کی حالت اب مستحکم ہے اور  وہ آئی سی یو  سے بھی باہر آگئے ہیں اور اگر سب رپورٹس بہتر آتی ہیں  تو 2-3 دن میں ان کی چھٹی کر دی جائے گی اور اس بات کی تصدیق ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی کی گئی ہے جس میں واٹس پر گردش کرتی ان کی طبیعت بگڑنے کی خبروں پر یقین نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے بھی ، دلیپ کمار کے اسپتال میں داخل ہونے کے بارے میں سن کر ان کی عیادت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button