پشاور میں بلیک فنگس کی تشخیص

خیبر ٹیچنگ اسپتال (کے ٹی ایچ) کے ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے ٹی ایچ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھیں نئے پیدا ہوتے خطرے سے آگاہ کیا ۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے شعبہ  ای این ٹی کے سربراہ ڈاکٹر عارف  رضا کا کہنا ہے کہ کورونا کی صورتحال میں بلیک فنگس  کے مریض سامنے آرہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کوویڈ مریضوں کو دی جانے والی آکسیجن کے سلنڈرز کی مسلسل صفائی نہ کی جائے تو بلیک فنگس کے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ آکسیجن سیلنڈرز سالہاسال اسی طریقے سے استعمال ہوتے رہتے ہیں کہ ان میں آکسیجن ڈال دی جاتی ہے اور استعمال ہوتی ہے پھر ڈال دی جاتی ہے اور پھر استعمال ہوجاتی ہے۔

بیماری کی وجوہات

انکا کہنا تھا کہ ایک تو باقائدگی سے صفائی نہ ہونے کے باعث اور پھر یہ سلینڈرز بنیادی طور پر ایسی دھات کے ہوتے ہیں کہ ان پر زنگ آجاتا ہے اور طویل عرصے تک صفائی نہ ہونے کے باعث اس میں مختلف قسم کے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں ۔

ڈاکٹر عارف رضا نے واضح کیا کہ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ چونکہ کوویڈ کا زمانہ چل رہا ہے اور آکسیجن سلینڈرز کا استعمال بڑھ گیا ہے  لہذا زیادتی استعمال اور صفائی کے انتظامات کی کمی کے باعث ان جراثیموں نے انفیکشن کی شکل اختیار کرلی اور بلیک فنگس کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ کورونا کے مریضوں میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی ہے اور فنگل انفیکشنز زیادہ ان ہی مریضوں کو متاثر کر پاتے ہیں جن میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے۔

ڈاکٹرز اور صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سلینڈرز فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ادارے سلینڈرز کی صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ  کووڈ کے مریضوں کو مزید کسی انفیکشن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Back to top button