افغان سفیر کی واپسی کا فیصلہ

افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا ڈرامہ فلاپ ہونے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے اپنے سفیر نجیب اللہ علی خیل اور تمام سینئر ڈپلومیٹس  کو واپس بلالیا ہے۔

موقف اختیار کیا کہ جب تک پاکستان میں سفارتی  عملے کو  مکمل سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی اور سفیر کی بیٹی کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے گرفتار کر کے انجام تک نہیں پہنچائے جاتے عملہ واپس نہیں جائے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان  کے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلانے کے فیصلے پر تعجب ہوا۔ پاکستان اس افسوس ناک واقعے پر انکے ساتھ ہمدردی کررہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جب میں نے سنا تو خواہش  پیدا ہوئی کہ انکے وزیر خارجہ سے بات کروں ۔تاہم حنیف اتمر صاحب سے میری بات ہوئی  اور میں نے ان سے کہا کہ آپ سفیر اور سینئر ڈپلومیٹس کو واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

دونوں ریاستوں کا مفاد

وزیر خارجہ نے کہا کہ  اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا دونوں ریاستوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان  وزیر خارجہ نے ان سے کہا ہے کہ  ان حالات میں ہم اپنی ایک ٹیم اسلام آباد بھیجنا چاہتے ہیں تو میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ شوق سے بھیجیے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ یہ معاملہ اتنا حساس ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بذات  خود اس معاملہ کو    دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے ہدایت کی ہے کہ جو اس میں مجرم ہیں انہیں بے نقاب کریں اور جو ذمہ داران ہیں انہیں قرار واقع سزا  دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  افغانستان حکومت  کو ایک سوالنامہ بھی بھیجا گیا ہے  جس میں کچھ تقاضے کیے گئے ہیں ۔جو تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر کو مشاورت کے لیے پاکستان  طلب کرلیا گیا ہے۔پاکستانی سفیر منصور احمد خان کابل سے اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button