یوم شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

خلیفہ سوم ،  داماد رسول ﷺ ،ذوالنورین ،ذوالہجرتین ،شرم وحیا کا پیکر،مظلوم مدینہ  حضرت عثمان غنیؓ کا یوم شہادت آج 18 ذی الحجہ بمطابق 29 جولائی 2021 ء بروز جمعرات انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا  گیا۔

 اس ضمن میں ملک کے تمام شہروں میں مختلف دینی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نے جلسے، سیمینار اور دیگر مقدس  اجتماعات کا اہتمام کیا ۔

ان اجتماعات میں مقررین  نےامیر المومنین سیدنا حضرت عثمان  غنیؓ کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار، بے مثال فتوحات اور سخاوت و شجاعت سے متعلق  عوام کو روشناس کرایا۔

ذوالنورین

یہ سعادت صرف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوحاصل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں۔ جب آپ اسلام لائے تو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔ حضرت رقیہ کے وصال کے بعد حضوراکرم ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔ اور جب حضرت ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بھی وصال ہو گیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگرمیری تیسری صاحبزادی ہوتی تو  میں اس کوبھی عثمان کے عقد میں دے دیتا۔ اسی اعزازکی بنا پر آپ کو ذو النورین کہا جاتا ہے۔

ذوالہجرتین

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا شرف بھی دومرتبہ حاصل کیا۔ مشرکین و کفار کے ظلم و جبر سے تنگ آکر جن اصحابؓ نے ہجرت کی ان میں آپؓ اپنی زوجہ حضرت رقیہؓ کے ساتھ شریک تھے۔

اس موقع پرحضور ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت ابراہیم ؑ اورحضرت لوط ؑ کے بعد عثمان وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اہل بیت کے ہم راہ ہجرت کی۔ دوسری ہجرت آپ ؓنے مدینہ طیبہ کی طرف کی۔ اس لیے آپ کو  ؓ ’’ذوالنورین‘‘ کے ساتھ ساتھ  ’’ذوالہجرتین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

شرم و حیا کا پیکر

حضرت عثمان غنیؓ حیا کا ایسا پیکرتھے کہ فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے تھے۔حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔

خلیفہ ثالث

سیدناحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 24 ھجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ مقر ر ہوئے تو شروع میں آپ نے 22 لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ مختلف ممالک کو فتح کر کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا۔

غنی

اللہ تعالیٰ نےحضرت عثمان غنیؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھا آپؓ کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ قریش کے دولت مند ترین لوگوں میں شمار کیے جاتے تھےاور وہ اس مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہ کے آخری رسولﷺ نے آپ کو “غنی” کا لقب عطا فرمایا۔

مظلوم مدینہ

بارہ سال خلافت فرما کر18 ذوالحجتہ سن 35 ہجری میں بروزجمعہ روزے کی حالت میں تقریبا 82 سال کی عمرمیں شہید کیے گئے۔ حضرت زبیر بن مطعم ؓ نے آپؓ کی نماز پڑھائی اور کتاب اللہ کے سب سے بڑے خادم، سنت رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے عاشق اور محسنِ اسلام کو جنت البقیع کے گوشے میں ہمیشہ کے لیے سلا دیا گیا۔

نبی کے مقرب

آپ عشرۂ مُبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضور نبی کریم ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔

اعلی نسب

حضرت عثمان غنیؓ کاسلسلۂ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر رسول اللہ ﷺسےجاملتاہے۔حضرت عثمان غنیؓ کی نانی رسول اللہﷺ کی سگی پھوپھی اور رسول اللہﷺْ کے والدحضرت عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپ رسول اللہﷺْکےقریبی رشتے دار تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button