داسو پاور پروجیکٹ، حادثہ یا دہشتگردی

پاکستانی حکومت نے داسو پاور پراجیکٹ کے بس حادثے میں دھماکہ خیز  مواد کے استعمال   ہونے کی تصدیق کی ہےاور کہا  ہے کہ واقعہ میں دہشت گردی کے امکان سے نظر نہیں چرائی جاسکتی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا  کہ داسو واقعہ کی ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کے شواہد ملے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ  واقع میں دہشتگردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ  وزیر اعظم اس واقعہ کی تحقیقات کی نگرانی خود کر رہے ہیں۔وفاقی حکومت چینی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔واقعہ میں 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز پاکستان میں  موجود چینی سفارتخانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ صبح 7 بجے داسو پاور پراجیکٹ کی بس  میں دھماکہ ہوا ہے،  جسکے نتیجے میں 9 چینی باشندے اور 3 پاکستانی باشندے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، چینی سفارتخانے نے حادثے کے فوراً بعد پاکستانی وزارت خارجہ،وزارت داخلہ اور پاک فوج سے رابطہ کیا ۔

چینی سفارتخانے کی جانب سے  پاکستان کےمتعلقہ حکام سے معاملہ کی ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات اور پاکستان میں چینی پراجیکٹس  پر حفاظتی اقدامات کو مضبوط تر بنانے پر زور دیا گیا۔ مزید یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پاکستان اس حادثے کی تحقیقات کر کے سچائی سامنے لائے اور چین  اس ضمن میں  پاکستان کے ساتھ  بھر پور تعاون کرے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button