دانش صدیقی جامعہ ملیہ میں سپرد خاک

معروف ہندوستانی صحافی دانش صدیقی افغانستان میں اسپن بولدک کے مقام پر افغان سیکوریٹی فورسز اور طالبان کی جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے۔ اُن کا جسد خاکی دہلی میں ان کے اہل خانہ کو سونپ دیاگیا ہے۔

گزشتہ روز طالبان نے ان کا جسد خاکی ریڈ کراس کو سونپ دیا تھا اور ان کے جان سے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُس میں اپنی شمولیت سے انکار کیا تھا۔

 افغان حکام  کے مطابق فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی اسپن بولدک میں طالبان سے قبضہ چھڑوانے کے لیے جانے والی افغان سیکیورٹی فورسز کی ٹیم کے ہمراہ تھے ۔طالبان اور فورسز کے درمیان  اسپن بولدک کے مرکزی بازار میں جھڑپوں کی عکس بندی کرتے ہوئے گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

بھارت میں موجود افغانستان کے سفیر فرید ماموند زئی نے صحافی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دانش صدیقی کی فرنٹ لائن پر رپورٹنگ کے دوران ہلاکت ہوگئی ۔واقعے پر میں شدید صدمے میں ہوں۔

دانش صدیقی کی موت

ڈیتھ سرٹیفیکٹ سے یہ واضح ہوگیا  ہےکہ فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق معروف صحافی کی نماز جنازہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ادا کی گئی اور وہیں  انکی تدفین کی گئی۔

 بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق دانش صدیقی کا جسد خاکی ایئر انڈیا سے دہلی ہوائی اڈے پر  لایا گیااور اس کے بعد ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا گیا جہاں آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاری کے بعدانکی نماز جنازہ اورتدفین جامعہ ملیہ میں کی گئی۔

جامعہ ملیہ کا یہ قبرستان خاص طور پر یونیورسٹی کے اسٹاف اور ان کے لواحقین کے لیے بنایا گیا ہے۔ دانش صدیقی نے اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد یہاں فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین تھے۔

واضح رہے کہ دانش صدیقی معروف برطانوی خبررساں ادارے روئٹر انڈیا کے چیف اور پلٹزر ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ  تھے۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے بھارتی صحافی بھی تھے۔

انہیں یہ ایوارڈ  روہنگیا پناہ گزینوں کی دربدری اور بحران کی فوٹوگرافی کرنے پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے نیپال زلزلے، موصل جنگ، ہانک کانگ مظاہروں کی  بھی بہترین کوریج کی تھی۔

اسکے علاوہ دہلی فسادات سے متعلق ان کی ایک تصویر کو روئٹرز نے سال 2020 کی بہترین تصویر قرار دیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button