ویکسین کی قیمت پرعدالت برہم

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے کوویڈ 19 کی حفاظتی ویکسین کی قیمتوں میں عدم تعین پر استثنیٰ لیتے ہوئے سیکریٹری کابینہ ڈویژن ، سیکریٹری صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈی آر پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو عدالت کی ہدایتوں کی تعمیل نہ کرنے پر شوکاز نوٹسز جاری کردیئے ۔

شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے بیان جاری کیا کہ آپ لوگوں نے عدالتی حکم کو مذاق سمجھا ہوا ہے ،10 دن سے آپ لوگ کیا کر رہے ہیں، سارے کام ہو رہے ہیں لیکن ویکسین کی قیمت مقرر نہیں ہوئی اس میں کیا راکٹ سائنس ہے ؟

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ وفاقی حکومت کے لاء آفیسر نے 12 اپریل کو عدالت کے سامنے یہ وعدہ کیا تھا کہ وفاقی حکومت کے ذریعہ ویکسین کی قیمت دس دن کے اندر طے کی جائے گی جبکہ یکم اپریل کو عدالت کے روبرو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ قیمت 7 دن میں طے کی جائے گی۔

عدالت برہم

وفاقی حکومت کی جانب سے آج دائر کی گئی خط و کتابت کی کاپیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ انہوں نے ڈویژن بینچ اور اس عدالت کے روبرو دیئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے، عدالت نے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن ، سیکرٹری صحت اور سی ای او ڈریپ کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب دیا کہ کیوں ان کے خلاف جان بوجھ کر احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی شروع نہیں کی جانی چاہئے۔

عدالت  نے کووڈ 19ویکسینوں کی درآمد میں چھوٹ سے دستبرداری کے بارے میں حکومت کے نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت سے متعلق امور بھی تجویز کیے اور 20 مئی کو ان امور پر بحث کرنے کے لئے وکیل کو ہدایت کی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قیمت طے کرنے سے قبل ڈی آر پی نے ملک میں ویکسین کی فروخت کے خلاف درخواست دائر کی تھی، تاہم عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ویکسین کی فروخت سے متعلق کسی بھی قسم کی پابندی عوامی مفادات کے منافی ہوگی کیونکہ اس وقت اس ملک کو درپیش بحران کی وجہ سے اس کی غیر متنازعہ فوری ضرورت ہے۔

Back to top button