رنگ روڈ منصوبہ میں کرپشن،فواد چودھری

منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے راولپنڈی رنگ روڈ (آر 3) اسکینڈل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے پر کام کرنے والے ایک انجینئر نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ سڑک کی سمت میں ردوبدل کر دیا گیا ہے۔

فواد نے کہا کہ وزیر اعظم نے شکایت ملنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ سڑک کی سمت تبدیلی کے بارے میں معلومات درست ہیں،مزید یہ کہ یہ بھی پتہ چلا کہ سڑک کو اٹک کی طرف بھی 29 کلو میٹر تک بڑھا دیا گیا ہے۔

فواد چودھری نے کہا سڑک کو وسعت دینے کی وجہ ،کئی  بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانا تھا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری اور وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کامنصوبے کے عہدیداروں پرمنصوبے کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے  کے لیےدباؤ ڈالنے کے الزام کے بارے میں فواد  چودھری نے کہا کہ اب تک کسی وزیر کا رنگ روڈ منصوبے میں  ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زُلفی بخاری نے استعفیٰ اخلاقی بنیادوں پر دیا تھااوردونوں سرکاری عہدیداروں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس معاملے میں غلط طریقے سے گھسیٹا گیا ہے۔

قانون کے نزدیک تمام شہری برابر ہیں،اب ان تمام الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا یہ  الزامات اپوزیشن رہنماؤں ، کابینہ کے ممبروں ، بیوروکریسی یا کسی بھی ادارے کے  حق میں ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ‘جواب دہی’ کا اصول ہر ایک پر عائد ہوتا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ  یہی وہ نظام میں تبدیلی ہے جس کا وعدہ عمران خان کی جانب سے  کیا گیا تھا۔

فواد چودھری

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ صرف عمران خان کی حکومت میں ہی ممکن تھا کہ اگر کسی کے خلاف بھی الزامات لگائے گئے تو ان کی تحقیقات کی گئیں،انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دور میں میڈیا  سرکاری منصوبوں میں دھاندلیوں  کو اجاگر کرتا رہا  لیکن ان کی  آواز کو  دبا دیا گیا۔

انہوں نے کہا  کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نظام کو تبدیل کر دیا  ہےکیونکہ حکومت کو پختہ یقین ہے کہ سرکاری عہدہ داران کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے اس کے علاوہ بااثر شخصیات بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم کو رنگ روڈ پروجیکٹ کے معاملے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے اصل  سمت  میں 23 کلو میٹر کا  اضافی رقبہ  شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے زمینوں کی خریداری کے بجٹ سے 20 ارب روپے کی اضافی ادائیگی ہوئی ہے۔

اس کے بعد  وزیر  اطلاعات نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب کے ساتھ ساتھ کمشنر راولپنڈی سے بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا گیا ہے۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ کمشنر نے ان اطلاعات کی تصدیق کی کہ سابق کمشنر اور کچھ افسران اس اسکینڈل میں ملوث تھے  اور معاملے کو مزید تفتیش کے لئے متعلقہ محکموں کو بھیجنے کا مشورہ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button