کس سے پوچھیں کون بتائیگا ؟ کورونا

  . ایک سوال کا جواب ملتا نہیں کہ دوسرے ہی لمحے ایک اور سوال پیدا ہوجاتا ہے 2019 دسمبر کے وسط میں چین کے شہر ووہان میں جب کورونا شروع ہوا تو ساتھ ہی سوالات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ بھی شروع ہوگیا جو شاید کورونا ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہے گا، یہاں چند سوالات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں سے چند کے جوابات مل گئے اور چند سوالیہ نشان لیے باقی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے چند سوالوں کے جوابات سے مزید چند سوال پیدا ہوگئے ہیں۔

موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے لہذا پہلا اور عام طور پر کورونا کے بارے میں پوچھے جانے والا سوال تو یہی ہےکہ

سوال : کیا گرم موسم کورونا وائرس کو ختم کر دے گا ؟

جواب : لوگ امید کرتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافے سے کورونا وائرس کی وبا ختم ہو جائے گی۔ اس خیال کا اظہار سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 فروری کو ایک جلسے سے خطاب کےدوران کیا انہوں نے کہا ‘آپ جانتے ہیں، جب موسم تھوڑا گرم ہوگا، یہ وائرس کرشماتی طور پر غائب ہوجائے گا ۔ انڈونیشیا میں بھی حکام کے خیال میں گرم موسم ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث اس ملک میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا

سوال : ماہرین کے مطابق کیا واقعی گرم موسم کورونا کی روک تھام کرسکتا ہے؟

جواب : ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم، معاشی فاصلہ کے اعتبار سے انسانی رجحان اور انسانی قوت مدافعت، کونسا عنصر اس وائرس کو ختم کرنے کے لئے زیادہ ضروری ہے،یہ ایسا سوال ہے جسکا جواب دینا مشکل ہے۔

سوال : کلورین، الکوحل اسپرے کورونا سے کس حد تک بچاتا ہے؟

جواب : ہاتھوں کو الکوحل والے وائپ یا سینیٹائزر سے بار بار صاف کرنے یا انہیں پانی اور صابن سے دھونے سے کورونا سے بہت حد تک بچا جاسکتا ہے لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پورے جسم پر الکوحل یا کلورین کا سپرے ان وائرسز کو ختم نہیں کرے گا جو پہلے ہی آپ کے جسم میں داخل ہوچکے ہوں اور اس قسم کی چیزوں کا سپرے اسکن یا میوکس میمبرینز کو نقصان پہنچا سکتا ہے جیسا کہ آپ کی آنکھیں یا منہ کا اندرونی حصہ۔

سوال : کیا کورونا مچھروں کے کاٹنے سے ایک سے دوسرے شخص میں  منتقل ہو سکتا ہے؟

جواب : اب تک ایسی کوئی معلومات یا ثبوت نہیں ملا جس سے پتہ چل سکے کہ مچھر کرونا وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ کورونا کے جراثیم عام طور پر متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے یا تھوکنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

سوال : پیاز، ادرک اور لہسن سے کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے۔

جواب : پیاز، ادرک یا لہسن کے استعمال سےکورونا کے علاج میں افادیت کے شواہد نہیں ملے ، البتہ گھریلو ٹوٹکے مثلاً شہد، ادرک کا قہوہ، جوشاندہ وغیرہ – فلو، گلا درد وغیرہ میں آسودگی کے احساس کے طور پر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

 سوال : کیا اینٹی بائیوٹک ادویات کرونا وائرس سے بچا سکتی ہیں؟

جواب : اینٹی بائیوٹک کورونا وائرس کا علاج تو نہیں مگر اس کی علامات کا علاج کافی حد تک ہیں ، اینٹی بائیوٹکس وائرس کے خلاف کام نہیں کرتیں بلکہ وہ صرف بیکٹیریا سے بچاتی ہیں اور کورونا بیکٹیریا نہیں وائرس ہے۔

سوال : کیا نوجوان بھی کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟

جواب : کورونا وائرس کے حوالے سے عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ زیادہ تر بوڑھے اور بچے ہی اس وبا کا شکار ہوتے ہیں، مگر اس تاثر کے برعکس پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ پاکستان میں کوورنا مریضوں کی عمروں کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)  کے مطابق ملک کے پہلے ایک ہزار مریضوں میں 34 فیصد کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے جبکہ 24 فیصد کی عمر 35 سے 50 سال کے درمیان ہے،50 سال سے بڑی عمر کے مریض کل تعداد کا صرف 24 ٖفیصد ہیں۔

سوال : کیا کورونا ویکسین کے نقصانات ہیں؟

جواب : اس کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ اگر ویکسین کو اتنی کم تعداد میں انسانی جسم میں داخل کیا جائے تو اس سے کوئی نقصان پہنچے۔ ویکسین آپ کو بیماری نہیں لگاتی بلکہ یہ آپ کے جسم کے مدافعاتی نظام کو یہ سکھاتی ہے کہ اگر کوئی کورونا وائرس جسم میں داخل ہو تو اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے ،کچھ افراد میں ویکسین لگنے کے بعد معمولی علامات ضرور ظاہر ہوتی ہیں جیسے پٹھوں میں درد، ہلکا سا بخار وغیرہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ ویکسین لگنے کے بعد جسم کا ردِعمل ہے۔

سوال : کیا کورونا سے صحتیاب ہونیوا لے افراد دوبارہ اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں؟

جواب : دراصل گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا وائرس سے دوسری بار بیمار ہونے کے کچھ کیسز سامنے آئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ اس وبا کا کوئی اختتام نہیں، اکتوبر کو ایک تحقیق شائع ہوئی جس میں امریکا سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان کے کیس کا ذکر کیا گیا تھا . اس نوجوان کا نام تو ظاہر نہیں کیا گیا مگر یہ بتایا گیا کہ دوسری بار بیماری کی شدت پہلے سے زیادہ تھی، حالانکہ مدافعتی نظام کو اس کی روک تھام کرنی چاہیے تھی ، مگر ابھی دوبارہ کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، یعنی 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد کیسز میں سے اب تک 5 افراد میں دوسری بار اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے۔

Back to top button