نقل اور پرچے لیک ہونا معمول

کل دسویں جماعت کے سائنس گروپ کے امتحانات مکمل ہوئے ہیں اور آج سے نویں جماعت کے سائنس گروپ کے امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے۔

آج ہونے والا امتحان صبح 9:30 بجے شروع ہونا تھا لیکن اسکا سوالیہ پرچہ  نجی پیغام رسانی کی ایپس  کے علاوہ سوشل میڈیا پر صبح 9 بجے سے  بھی پہلے دستیاب تھا۔

منگل کے روز  سائنس گروپ کا کیمسٹری کا سوالیہ پرچہ  اور جنرل گروپ کا سوِک کا  سوالیہ پرچہ  امتحان سے چند منٹ پہلے ہی لیک ہوگئے تھے۔ سوالات کو لیک ہونے سے روکنا تعلیمی بورڈ کی ذمہ داری تھی۔

اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ نے سخت نوٹس لیا ہے اور بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کےکنٹرولر برائے امتحان  کوطلب کرلیا ہے ۔جنہوں  نے مشیر  وزیر اعلی سندھ نثار کھوڑو کو سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایس ایس سی) سالانہ امتحان 2021 کے دوران بد انتظامی اور انتشار کے بعد اصلاحی اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تاہم آج صوبہ  سندھ میں تیسرا پیپر بھی لیک ہوا اور  اعلی حکام کے نوٹس لینے کے باوجود بھی کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس سے قبل پیر کے روز ، کراچی بورڈ کے چیئرمین سید شرف علی شاہ نے کنٹرول افسروں پر الزام لگایا تھا کہ وہ سوالیہ پرچہ جات لیک کرتے ہیں اور اس کی فراہمی میں  بھی تاخیر کرتے ہیں۔

آج کراچی میں ہونے والے امتحان سے متعلق یہ انکشاف بھی ہوا  ہے کہ  آج بھی پرچہ امتحانی مراکز پر تاخیر سے شروع ہوا جس پر  طلباء اور ان کے والدین نے ناقص انتظامات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ پیر کے روز کراچی میٹرک بورڈ کے چیئرپرسن نے سوالیہ پیپر لیک ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ "مجھے ابھی تک ایسی کسی چیز  کی خبر نہیں ملی ہے لیکن اگر ایسا ہواہے تو ہم اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button