کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کرنے پر غور

کے الیکٹرک نے  دن رات غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کر کے کراچی کے شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے،شہری کہتے ہیں کہ شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ  نے انکی زندگی اجیرن کردی ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں  میں ایک سے  دس گھنٹے کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے،ہر سال موسم گرما میں کراچی کے شہریوں کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہےلیکن متعلقہ ادارے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی  لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے سے قاصر ہیں۔

شہر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بھی بند ہیں  لیکن پھر بھی کے الیکٹرک   شہریوں کی    بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔

کے الیکٹرک کی بدترین    صورتحال کے باعث وفاق نے "کے الیکٹرک” کو تقسیم کار کمپنی میں بدلنے  پر غور شروع کردیا ہے۔

معاون خصوصی تابش گوہر نے ایف پی سی سی آئی کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا  کہ کے الیکٹرک کی نجکاری غلط فیصلہ تھا ،کمپنی کی اجارہ داری ختم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

ایم ڈی کے الیکٹرک کو بھی گورنر ہاؤس طلب کیا گیا،عمران اسماعیل  نےشہر میں لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی  کیا،معاملات کو ذاتی طور پر دیکھنے کی ہدایت کی ،کہا شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔

Back to top button