گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

دو ہفتے بعد سی این جی اور ایل این جی اسٹیشنز کھول دیے گئے ،ترجمان سوئی سدرن کے مطابق مختلف گیس فیڈرز سے ملنے والی  مقدار میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سندھ، کے پی کے ،بلوچستان اور پنجاب کے اسٹیشنز کو رات 12 بجے سے گیس کی فراہمی بحال کردی گئی  تھی اور صبح 8 بجے تمام اسٹیشنز نے صارفین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔

مختلف گیس فیلڈز کی سالانہ مرمت کے لیے بندش  کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں 200 ایم ایم سی ایف ڈی  سے زائد کی قلت ہوگئی تھی، اسی وجہ سے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی 22 جون سے بند تھی۔

تیرہ روز بعد سی این جی  فلنگ اسٹیشنز کھلتے ہی لوگ گاڑیاں لیے قطار میں لگ گئے لیکن جب دام دینے کی باری آئی تو صارفین کو حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ سی این جی کی قیمتیں یکمشت 17 روپے اضافے سے 140 روپے فی کلو ہوچکی تھیں۔

گیس اسٹیشنز مالکان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں  ٹیکسوں میں اضافے اور آر ایل این جی کی متوضع نئی قیمتیں سی این جی  کے مہنگے ہونے کا سبب ہیں۔

پہلے سیلز ٹیکس 5  فیصدتھا اور اب نئے بجٹ کے مطابق 17 فیصد ہے  لہذا 12 فیصد سیلز ٹیکس کے فرق   نے سی این جی کی قیمتوں میں ردوبدل کو  ناگزیر بنادیا ہے۔

سی این جی اسٹیشنز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس واپس نہ لیا تو فی کلو سی این جی 30 روپے تک مہنگی کردی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button