سانحہ کینیڈا پر اظہار افسوس

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹوئیٹ کیا کہ اس واقعے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ”میرا پیغام ان لوگوں کے پیاروں کے لئے  ہے جو کل کی نفرت انگیز  دہشتگردی کا نشانہ بنے، ہم آپ کے لئے حاضر ہیں۔ لندن میں مسلم کمیونٹی اور پورے ملک کے مسلمان جان لیں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری کسی بھی برادری میں اسلامو فوبیا  کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ نفرت گھناؤنی اور سستی ہے – اور اسے رکنا چاہئے۔

منگل کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کینیڈا میں پاکستانی نژاد کنبے کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اسلامو فوبیا کے مقابلہ کے لئے مکمل طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ اونٹاریو کے لندن میں ایک مسلمان پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کے قتل کے بارے میں جان کر بہت افسوس ہوا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "دہشت گردی کی یہ قابل مذمت کارروائی مغربی ممالک میں بڑھتےہوئےاسلامو فوبیا کی علامت ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے  افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ   آج آپ کینیڈا کو رورہے ہیں ،کچھ دن پہلے آپ نیوزلینڈ پر آنسو بہا رہے تھے،اگراسلامو فوبیا کا  جلد تدارک  نہیں کیا گیا تو نفرت کی آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی۔

مسلم ایسوسی ایشن کینیڈا کے صدر مصطفی فاروق نے ریڈیو کینیڈا کو انٹرویو دیتے ہوئےکہ یہ حملہ جنوری 2017 میں کیوبک سٹی کی ایک مسجد میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کےواقعہ ، اپریل 2018 میں 10 افراد کی ہلاکت کے واقعہ اور ٹورنٹو میں ڈرائیونگ حملے کی تکلیف دہ یادوں کو واپس لے آیا ہے۔

مسلم ایسوسی ایشن کینیڈا

کینیڈا کے مسلمانوں کی  ایک مقامی کونسل نے کہا ہے کہ یہ اس خاندان کے لئے "انتہائی ہولناک اور غیر منصفانہ ”  تھا جو موسم بہار کی ایک گرم شام میں محض "چہل قدمی کے لئے” نکلے تھے”۔ یہ کینیڈا کی سرزمین پر دہشت گرد حملہ ہے اور کیا انکے ساتھ ایسا سلوک کیا جانا چاہئے تھا ؟” ۔

مسلم ایسوسی ایشن کینیڈا نے بھی حکام سے مطالبہ کیا کہ ” نفرت اور دہشت گردی  کےاس خوفناک حملے کیخلاف کارروائی کی جائے”۔

اونٹاریو کے پریمیر ڈگ فورڈ نے ٹوئیٹ کیا کہ "اونٹاریو میں نفرت اور اسلامو فوبیا کی کوئی جگہ نہیں ہے” ۔”تشدد کی یہ گھناؤنی حرکتیں رکنی چاہئیں” ۔چار سال قبل ایک 27 سالہ سفید فام انتہا پسند نے بھی کوئیک سٹی شہر کی ایک مسجد میں دھاوا بولا تھا اور نماز کے دوران نمازیوں پر جو شام کی نماز کے بعدبات چیت کر رہے تھے گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی جس میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

اس  کے بعد مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کی مسجد میں مسلمانوں پر بدترین فائرنگ کی گئی تھی۔ شوٹر الیگزینڈری بسنٹ کو 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن اپیل پر اس کو کم کردیا گیا ، اور اب سپریم کورٹ اس کی سزا کا جائزہ لے رہی ہے۔ دریں اثنا ٹورنٹو میں تین سال قبل مارچ میں ایک کرایے پر چلنے والی وین کو چلانے والا ایک 28 سالہ شخص  10 افراد کو قتل کرنے اور 16 افراد  کا اقدام قتل کرنے کی کوشش میں قصوروار پایا گیا تھا۔

اس حملے سے قبل اس شخص نے فیس بک پر "انیچرٹری برہموں” کی ایک آن لائن برادری کا حوالہ شائع کیا تھا جن کی جنسی مایوسیوں نے انہیں بد نظمی کے نظریے کو قبول کرنے کا باعث بنا دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button