طالبان اور افغان فوج میں جھڑپیں جاری

افغانستان وزارت دفاع نے فضائی حملے میں طالبان کے  3اہم کمانڈرز سمیت درجنوں طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔حکام کے مطابق صوبہ لخمان اور صوبہ تخار میں ٹارگٹڈ  آپریشن کیا گیا۔

وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ڈرون فوٹیج میں 3 افراد کو نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اتوار کے روز سیکیورٹی فورسز نے فضائی حملوں کی مدد سے تاجکستان کی سرحد سے متصل ایک اہم شمالی صوبے کے مرکز تالقان پر بھی طالبان کے حملے کو پسپا کردیاتھا۔

تاہم طالبان  کی پیش قدمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔افغانستان میں طالبان نے  مزید اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔شہروں کے پولیس ہیڈ کواٹرز پر بھی طالبان کے قبضے  جاری ہیں۔طالبان کی کاروائی کے باعث افغان اہلکار ہتھیار ڈال کر فرار ہوگئے۔

پچھلے ہفتے طالبان جنگجو مغربی صوبہ بادغیس کے دارالحکومت میں داخل ہوئے ، پولیس  کواٹرزاور سیکیورٹی کی سہولیات پر قبضہ کرکے گورنر کے دفتر پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

اضلاع کا کنٹرول

طالبان نے قندھار،قندوز،تخار اور بدخشاں کے 20 اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔طالبان نے قندوز میں 2 ہیلی کاپٹر تباہ  کردیے،جبکہ کابل میں افغان فضائیہ کے پائلٹ کو مار ڈالا۔

صوبہ غزنی پر بھی چڑھائی کی اور نو آباد پر قبضہ کرلیا۔امریکہ نے بھی افغان حکومت کی کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے اور موجودہ صورتحال پر تشویش کا  اظہار بھی کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز افغان فوجیوں سے جھڑپ کے بعدطالبان نے وسطی افغانستان کے شہر غزنی کو گھیرے میں لے لیا ہے  اور انہوں نے شہریوں کے گھروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

غزنی کی صوبائی کونسل کےایک ممبر حسن رضایی نے کہا  ہے کہ”غزنی شہر کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ طالبان نے شہری مکانات کو ٹھکانے کے طور پر استعمال کیا اور اے آر ایس ایف (افغان سکیورٹی فورسز) پر فائرنگ کی ، جس سے اے آر ایس ایف کے لیے طالبان کے خلاف کارروائی کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے” ۔ واضح رہے کہ اپریل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ گیارہ ستمبر تک امریکی فوجیں افغانستان میں 20 سال پورے ہونے کے بعد واپس امریکہ چلی جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button