سندھ اور کراچی کےخیرخواہ ہونے کا دعوی

فواد چوہدری نے اتوار کے روز کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر کہا کہ کراچی،بدین اور لاڑکانہ [سندھ کے اضلاع] کے لئے اربوں روپے مختص کیے گئے تھے لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ یہ رقم کہاں گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ  کے سب سے بڑے دشمن سندھ پر راج کر رہے ہیں ، سندھ میں جمبہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ(آمریت نافذ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک بار پھر پی پی پی کی زیرقیادت سندھ حکومت پر حملہ کرتے ہوئے  سندھ کی صوبائی حکومت کو فراہم کردہ فنڈز کی  تھرڈ پارٹی نگرانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فنڈز متحدہ عرب امارات اور کینیڈا سمیت بیرونی ممالک میں لانڈر کیے جارہے ہیں۔

سندھ کو فراہم کی جانے والی رقوم یا تو کشتیوں یا جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک بھجوا دی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو رقم سندھ کو دی جاتی ہے وہ بالآخر غیر ملکی بینک کھاتوں میں جمع ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم حکومت سندھ کو فراہم کردہ فنڈز کی مانیٹرنگ کرنا چاہتے ہیں۔

پانی چور

وفاقی وزیرنےسندھ کے حکمرانوں پر پانی چوری کا بھی الزام لگادیا ،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو پانی کا واجب الادا حصہ نہیں مل رہا ہے لیکن جب  انکو انکے اس دعوے کو اعدادوشمار کے ساتھ ثابت کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ بھاگ گئے، یہ پانی کی آمد اور اخراج کا ریکارڈ چھپانا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ  زرداری صاحب،فریال بی بی اور مراد علی شاہ کی خود کی زمینوں پر تو کبھی ایک دن کا ناغہ بھی نہیں آیا،پانی چوری یہ سارے مل کر خود کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے دن پورے ہوگئے ہیں،سندھ میں آکر عمران خان خود اگلی الیکشن کیمپین کو  لیڈ کریں گے،سندھ کے اندر  اگلی حکومت پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔

سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ان ریمارکس کے بعد وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو استعفیٰ  دےدینا چاہئے۔

انہوں نے ایک بار پھر چیف جسٹس گلزار احمد  پر زور دیا کہ وہ حکومت سندھ سے آئین کے آرٹیکل 140 کو نافذ کرنے کے لئے کہیں جس میں بلدیاتی حکومتوں (ایل جی) کو اختیارات منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سندھ کے وزیر اعلی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آرٹیکل 140 پر عمل درآمد صوبائی حکومت کے لئے لازمی ہے ۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ  خیبر پختونخوا اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں (جہاں حکمراں پی ٹی آئی اقتدار میں ہے )پہلے ہی اس پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

ووٹ اصلاحات

انتخابی اصلاحات پر تبادلہ خیال کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی مجوزہ تمام جماعتوں کی کانفرنس (اے پی سی) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے  فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو ووٹ اصلاحات سے متعلق اپنا ان پٹ دینے کے لئے پارلیمنٹ میں آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی بھی فورم ووٹ اصلاحات کی تجاویز پیش کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا جوابی وار،کہا سندھ میں پی ٹی آئی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں ،اگلے الیکشن میں انہیں امیدوار نہیں  ملیں گے۔

فواد چوہدری زرداری ہاؤس  کا طواف کرتا تھا کہ کوئی پوزیشن مل جائے،آصف زرداری نے فواد چوہدری کو پارٹی میں عزت دی۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب  نے کہا  کہ پی ٹی آئی کو عثمان بزدار  جیسے  گونگے پسند ہیں ،محمود خان پسند ہیں جو کہ خاموش رہتا ہے،انکو عوام کی ترجمانی کرنے والا مراد علی شاہ پسند نہیں ہے۔

انہوں نے  فواد چوہدری سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ  کیا آپکے بزدار نے لوکل گورنمنٹ نظام کو رکھا؟،محمود خان نے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو رکھا یا  پھر ختم کردیا؟،آپکے عمران خان نے اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ کے نظام کو رکھا یا پھر ختم کردیا؟۔

مرتضی وہاب نے دعوی کیا کہ تین سال میں انکے پاس تین پروجیکٹ نہیں ہیں بتانے کو،ایک ہی چیز ہے جو بہتر ہوئی ہے وہ یہ کہ پچھلے ایک سال میں پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے  طنز کرتے ہوئےکہا کہ کل چونکہ  باپوں کا عالمی دن تھا تو فواد چوہدری اسی کی مبارکباد دینے کراچی آئے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button