فرانسیسی صدر کو شہری کا تھپڑ

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون فرانس کے جنوب مشرقی علاقے ڈروم کے دورےتھے جہاں پر ایک ریسٹورینٹ میں  وہ وہاں کے مالکان اور کچھ طلباء سے "کورونا کے بعد زندگی معمول پرآرہی ہے ” کے موضوع پر بات کر رہے تھے۔

ریسٹورینٹ سے باہر آنے کے بعد میکرون وہاں  آہنی باڑ کی دوسری طرف موجود شہریوں  سے ملنے کے لیے آگے بڑھے کہ اچانک ایک شہری نے ان کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ ماردیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی اس واقع کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مصافحہ کے لیے آگے بڑھائے گئے میکرون کے ہاتھ کے جواب میں انہیں زور دار  ہاتھ منہ پر رسید کردیا گیا۔

اچانک تھپڑ پڑتے ہی میکرون کے کچھ سیکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے اور اسکے اور ہجوم  کے درمیان آگئے اور کچھ  نے حملہ کرنے والے شخص اور اسکے ساتھ دو مزید افراد کو دھر لیا۔

تاہم  ویڈیو میں کچھ دیر بعد ہی میکرون کو واپس آتے اور ہجوم کی طرف رخ کر کے کچھ کہتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتاہے۔

فرانس کے وزیر اعظم  جین کاسٹیکس نے واقع کی مذمت کرتے ہوئے بیان دیا کہ "اس قسم کا واقعہ جمبہوریت کی توہین ہے”۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات  رونما ہوتے رہے ہیں ،کبھی کسی نے امریکی صدر جارج بش پر جوتا پھینک کر مارا تو کبھی بھارت میں  سیاستدانوں پر جوتے پھینکے گئے۔

پاکستان میں بھی پرویز مشرف سمیت کئی سیاستدانوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button