چوہدری نثار نے تین سال بعد بطور رکن اسمبلی حلف اٹھایا

مسلم لیگ (ن) کے معروف رہنما اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے  تین سال بعد بدھ کے روز (کل)  بطور رکن پنجاب اسمبلی حلف  اٹھالیا۔

پنجاب اسمبلی کے  قائم مقام ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری  ان سے  عہدے کا حلف لیا۔  نائب ڈپٹی اسپیکر نے انہیں خطاب کی دعوت بھی دی جس سے انہوں نے  معذرت کرلی۔

 چوہدری نثار کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلی پنجاب کے بعد سب سے بڑا پروٹوکول  دیکھا گیا، حلف برداری کی تقریب میں صرف 44 افراد کو داخلے کی اجازت ملی ،چوہدری نثار کی گاڑی سے اسپیکر چیمبر تک انہیں  خصوصی حفاظتی حصار میں لے جایا گیا۔

اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی دوبارہ لاہور کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ میڈیا سے تفصیلی گفتگو   بھی کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا: "میں ابھی کسی پارٹی میں نہیں جا رہا ہوں۔”

حلف کی تصدیق

سابق وزیر داخلہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں حلف اٹھانے کے اپنے فیصلے کی تصدیق کی تھی۔ چکری سے تعلق رکھنے والے سیاستدان نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے انتخابی حلقوں سے مشورہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

انہوں نے اس وقت یہ بھی واضح کیا تھا کہ حلف اٹھانے سے ان کے موقف یا  مقاصد  پر کوئی اثر نہیں پڑے گا (2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں جو حلقہ این اے میں ان کی شکست کا باعث بنی تھی)۔

یہ فیصلہ ان اطلاعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے  جو وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق سامنے آرہی ہیں کہ وفاقی حکومت کچھ دن کے اندر آرڈیننس جاری کرنے کے لئے تیاری کر رہی ہے ، اور منتخب ایوانوں کے ان ممبروں کو معطل کردے گی جنہوں نے مقررہ مدت میں اپنے اپنے عہدوں کا حلف نہیں لیا ہے۔

مسلم لیگ ن نے  چوہدری نثار کے حلف اٹھانے کے فیصلے سے خود کو علیحدہ  کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔  ن لیگ کی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ ناراض رہنما کا فیصلہ ذاتی تھا اور حلف برداری  سے روکنے کے لئے حکومت کی کوششوں میں  ان کی پارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button