پاکستان میں بھی ارتھ آور منایا گیا

پاکستان میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تحت ارتھ آور منایا جارہا ہے اور مقامی وقت کے حساب سے رات 8:30 بجے سے 9:30 تک گھر دفاتر اور تمام دیگر مقامات کی لائٹ بند کر کے موم بتی یا ٹارچ کی روشنی کا استعمال کیا جائے گا۔

ارتھ آور پہلی بار 2007 میں سڈنی کے اوپیرا ہاوس کی روشنیوں کو بجھا کر منایا گیا تھا جس میں ایک کروڑ سے زائد شہریوں نے شرکت کر کے عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے متحد ہونے کا پیغام دیا تھا، تاہم ارتھ آور باقائدہ ایک عالمی تحریک کے طور پر 2009 سے شروع ہوا ۔

اسے منانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس کے سبب ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور فطری حیات متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آرتھ آور منایا جائے گا ، آرتھ آور کی مناسبت سے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر آج وزیراعظم آفس کی روشنیوں کو ایک گھنٹے بجھا دیا جائے گا۔

اس حوالے سے وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ماحولیاتی بہتری موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، صاف اور آلودگی سے پاک ماحول کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دیں اور آج ایک گھنٹے کے لیے اپنے اردگرد کی تمام برقی روشنیوں کو بند کر کے موم بتی یا لالٹین کا استعمال کریں۔

گورنر سندھ کا پیغام

دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی طرح گورنرہاؤس کی روشنیاں بھی بند رہیں گی ، گورنرہاؤس کی روشنیاں ایک گھنٹے رات ساڑھے 8 سے ساڑھے 9 بجے تک بند کی جائیں گی، اس اقدام سے ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ بجلی کی بھی بچت ہوگی۔

اس سال ارتھ آور منانے کی تھیم "کلائمیٹ چینج ٹو سیو ارتھ "رکھی گئی ہے ۔

Back to top button