پانی کے تنازع کی وجوہات

پانی کے حالیہ تنازع کی وجہ

حالیہ پانی کے تنازع کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے محکمہ آبپاشی کے قلمدان پر فی الحال کوئی وزیر موجود نہیں ہے،سابق وزیر آبپاشی فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد سے چار ماہ سے وزارت آبی وسائل کا قلمدان خالی ہے۔

فیصل واوڈا نے مارچ میں استعفی دیا تھا اور اس سے ایک مہینہ پہلے ،فروری سے ہی وہ غیر فعال تھے یعنی وزارت کے فرائض کی انجام دہی نہیں کر رہے تھے۔

آبی وسائل کے موجودہ بحران  کے دوران   گزشتہ بدھ کے روزسیکریٹری آبی وسائل بھی تبدیل کردیے گئے تھے،نئے سیکریٹری شہزاد بنگش  اس سے قبل چیف سیکریٹری آزاد کشمیر تھے وہ گزشتہ ہفتے کشمیر سے آئے ہیں لیکن انکی طرف سے اب تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

صوبوں کے درمیان آبی مسائل کی اہم وجہ

ملک میں  زرعی پانی پر برسوں سے صوبوں کے درمیان تنازع رہا ہے،اس تنازع کی ایک بڑی وجہ  بیراجز پر آج بھی صدیوں پرانے طریقے سے پانی کی پیمائش ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر نظام میں جدت آگئی سوائے پاکستان  کے نظام آبپاشی کے جسے ،دور برطانیہ میں بنایا گیا تھا،آج بھی ملک بھر کے بیراجز پر پانی کی پیمائش پرانے طریقے سے کی جاتی ہے،جس پر کوئی بھروسہ نہیں کرتاہے۔

واپڈا کی جانب سے سال 2003 میں 35 کروڑ کی خطیر رقم سے جدید ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا گیا تھالیکن وہ سسٹم ایک سال بھی نہ چل سکا۔

واپڈا کے چیف انجینئر سردار علی شاہ کا کہنا ہے کہ 2003 میں واپڈا والوں نے جدید ٹیلی میٹری انسٹال کیا تھا  جسکے بعد ارسا  والوں نے کہا تھا  کہ محکمہ آبپاشی اسکو سنبھالے گا،کچھ دن پہلے وہ یہاں سے سسٹم کو لے کر گئے ہیں،شاید اسکو ٹھیک کر رہے ہیں۔

پانی کی پیمائش کا نظام جدید نہ ہونا،صوبوں کے درمیان تنازع کی ایک بڑی وجہ ہے۔

پانی کے اکاؤنٹس

ارسا نے پیر کو کہا کہ صوبوں کے فراہم کردہ پانی کی کھپت کے اعدادوشمار  کےمطابق  یکم اپریل سے 31 مئی تک پنجاب اور سندھ دونوں کو پانی کی 20 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ارسا کے ترجمان نے بتایا ،کہ”واٹر اکاؤنٹ صوبوں کے پانی کے استعمال کی بنیاد پر ہر 10 دن بعد تیار کیا جاتا تھا”۔

پنجاب کے اکاؤنٹ کے مطابق پنجاب نے اپنی نہروں میں پانی کے 9.74ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) کے حصے  میں سے 7.76 ایم اے ایف استعمال کیا جبکہ سندھ نے 4.31 ایم اے ایف  کے اپنے حصے میں سے 5.40 ایم اے ایف  استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں بلوچستان نے اپنی نہروں میں 0.32 ایم اے ایف کے حصے میں سے  0.14 ایم اے ایف پانی استعمال کیا،بلوچستان کو 55٪ کمی کا سامنا کرنا پڑا ۔جب کہ خیبر پختونخوا نے اپنا 0.32 ایم اے ایف کا پورا حصہ استعمال کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button