کینیڈا میں مسلم خاندان کی تدفین

اونٹاریو،کینیڈا میں پاکستانی خاندان کو کچلنے کے واقع نے  ہر شخص کو سوگوار کردیا ہے، کینیڈین پاکستانی رکن پارلیمنٹ  سلمیٰ زاہد نے کہا کہ دہشتگردی کا ایک واقعہ رونما ہوا جس میں ہم نے 4 افراد کو کھو دیا،سلمان افضل ،انکی اہلیہ،انکی والدہ اور انکی بیٹی ۔

صرف ایک بچنے والا فرد ،وہ ایک 9 سال کا بچہ ہے ۔میں اسکے بارے میں سوچ رہی ہوں کہ جب وہ ہسپتال میں اپنی آنکھیں کھولے گا تو اس پر کیا بیتی گی کہ اس نے اپنے ان سارے ستونوں کو کھودیا جن پر     وہ انحصار کرتا تھا ۔

یہ نفرت پر مبنی  ایک دہشتگردانہ اقدام تھا ،اس واقعہ نے مجھے زیادہ قریب سے اس لیے  متاثر کیا کیونکہ جب میں نے پہلی بار اس  حادثے کے بارے میں سنا تو جو پہلی چیز میرے دماغ میں آئی وہ یہ تھی کہ  یہ سب میرے ساتھ بھی ہوسکتا تھا، میرے خاندان کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔

ایک پاکستانی نژاد ،ایک حجاب پہننے والی مسلمانوں عورت ہونے کی حیثیت سے اس واقعہ نے مجھے ایک الگ  درجے کی تکلیف دی ہے۔

میں اور میرے شوہر روزانہ ہمسایوں میں  جاتے ہیں اور رات کے کھانے کے بعد سڑک پر چہل قدمی کرتے ہیں ،پر اس حادثے کے بعد ہم رات کو  نہیں نکل پائے۔

ہم نے گھر پر رہ کر ایک دوسرے کو سنا اور سوچنے کی کوشش کی  کہ اس خاندان کے ساتھ کیا گزری ،یہ ایک دہشتگردانہ اقدام تھا،یہ ایک  نفرت پر مبنی اقدام تھا  لہذا یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ ہم ، ہمارے اردگرد نفرت کی ان دیواروں کو توڑیں ،اور ایک دوسرے کے لیے محبت اور مدد کے تاثر کو پیدا کریں ۔

سلمیٰ زاہد نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ جاں بحق افراد کے  خاندان کو انصاف دلانے اور نسلی امتیاز ختم کرنے کے لیے  کام کریں گی۔

تدفین کے انتظامات

کینیڈا میں ٹرک سے کچلے گئے 4 پاکستانیوں کی تدفین ،اونٹاریو کے شہر لندن میں  ممکنہ  طور پر  ہفتے کو کی جائے گی ۔

لواحقین کی جانب سے جاری بیان میں   لندن کی ان تنظیموں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے ،جنہوں نے تدفین کے سلسلے میں معاونت کی درخواست کی تھی ۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ لواحقین کی جانب سے یہ انتظامات  لندن مسلم کمیونٹی اور  مسجد کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button