بندشیں ،احتجاج اور ہڑتالیں

چوکر پر سیلز ٹیکس لگانے کے خلاف فلور ملز ایسو سی ایشن نے  ہڑتال کی دھمکی دے دیہے جسکے باعث ملک بھر میں آٹے کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

فلور ملز ایسو سی ایشن نے اعلان کردیا کہ چوکر پر سیلز ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کریں گے،وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے خلاف فلور ملز ایسوسی ایشن نے گندم کی پسائی بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

چیئرمین فلور ملز عاصم رضا کہتے ہیں  کہ کل سے واشنگ بند کریں گے اور 24 اور 25 جون سے  گندم کی پسائی بند کردی جائے گی اور 30 جون سے مکمل ہڑتال ہوگی۔

فلور ملز ایسوسی ایشن  سندھ کے صدر چوہدری یوسف  کہتے ہیں کہ حکومتی فیصلوں سے  آٹا مہنگا ہونے کا خدشہ ہے ،آج جو گندم کا ریٹ ہے وہ تقریبا  15 روپے فی کے جی اور 1500 سو روپے فی بید بڑھا یا جا چکا ہے۔

اگر چوکر کی مد میں یہ بھی 5 روپے اضافہ کر دیتے ہیں  تو عوام کے لیے آٹا کھانا بہت مشکل ہوجائے گا، اگر ہمارے دونوں مطالبات مانے جائیں گے تو ہڑتال ختم ہوگی ،وگرنہ ہڑتال جای رہے گی۔

فلور ملز ایسو سی ایشن نے چوکر پر سیلز ٹیکس کو  حکومت کے خلاف  سازش قرار دیا ،رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی میں کسی ایسے ٹیکس کی  مثال نہیں ملتی۔

گیس کا بحران

ادھر سندھ میں گیس کا بحران شدید ہونے لگا،سی این جی کی بندش کے بعد  کراچی  میں  صنعتوں کو گیس  کی فراہمی بند کردی گئی ،سوئی سدرن کو 250 ایم ایف سی ایف ڈی گیس کم مل رہی ہے ،سوئی سدرن کا کہنا ہے کہ  پہلی ترجیح گھریلو صارفین ہیں ،کیپٹو پاور پلانٹس کو بھی گیس کی فراہمی آدھی کردی گئی ہے،صرف ایکسپورٹ انڈسٹری کو گیس دی جارہی ہے۔

صنعت کاروں نے  گیس کی بندش پر عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایس جی سی کو صنعتوں کی گیس بحال کرنے کی ہدایت جاری کی جائے،صنعتوں کی گیس بند ہونے سے پیداوری سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں اور اس وجہ سے بڑے پیمانے پر برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب آئل ٹینکرز مالکان نے بھی 24 جون سے  تیل کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ،کانٹریکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اوگرا بے بس ہے تاہم کمرشل لوڈنگ کا  سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button