بلاول اور رانا ثناءاللہ مد مقابل

گزشتہ روز عمران خان نے  لودھراں  تا ملتان  شاہراہ کی بحالی اور اپ گریڈیشن  کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں  اپوزیشن  کی کرپشن اور  انکے احتساب سے  متعلق بات کی  جس پر  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہیں نشانے پر رکھ لیا۔

بلاول زرداری نے کہا کہ   آج پھر سے وزیر اعظم وہی راگ الاپ رہا تھا  کہ کرپشن کرپشن ،مافیا مافیا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین جو وفاقی دارالحکومت میں زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ،انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بار بار کیے جانے والے  دعوی  (کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنے والے لوگوں کو کوئی این آر او پیش نہیں کریں گے )کومسترد کردیا۔

 انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کس قسم کا ایک  پاکستان ہے جہاں رائیونڈ کے سزا یافتہ  وزیر اعظم کو لندن بھیج کر کہا جاتا ہے کہ این آر او نہیں دوں گا اور جہاں  نوابشاہ کے سزایافتہ صدر  تین سال میڈیکل ضمانت   پر اپنے ملک میں قید  میں گزار رہے ہیں، جو اپنے بچوں کی درخواست کے باوجود طبی علاج کے لئے بیرون ملک جانے سے انکار کرتے ہیں۔

مزید یہ کہ قائد حزب اختلاف پنجاب سے ہو تو اسے  ضمانت مل جاتی ہے اور اگر قائد حزب اختلاف سکھر کا ہو تو اسے   پنگ پانگ کی طرح کبھی نیب کورٹ،کبھی ہائی کورٹ ،کبھی سپریم کورٹ  پھر واپس ہائی کورٹ ،کس قسم کا دوگلا نظام ہے یہ کس قسم کا مزاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ "منتخب” وزیر اعظم نے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ،اور ان کے بھائی اورمسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو این آر او کی پیش کش کر دی تھی۔

ناکام حکومت

میں وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ احتساب کہاں ہے اور انصاف کہاں ہے؟ اگر وزیر اعظم کے دوستوں پر الزام لگایا جائے تو وہ جیل نہیں جاتے ہیں، اگر وزیر اعظم پر خود الزام عائد کیا جاتا ہے تو کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کی بہن پر الزام لگایا جائے تو کچھ نہیں ہوتا ہے۔

اب منتخب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی اور مدت مل گئی تو وہ جوابدہی کو یقینی بنائیں گے۔ یہ ایک لطیفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ناکام حکومت کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ والدین جو اپنے بچوں کو تعلیم حاصل نہیں  کراسکتے ہیں۔ جو اپنے بچوں کو روٹی اور پانی مہیا نہیں کرسکتے ہیں – وہ وزیر اعظم کو کبھی نہیں معاف کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان کی پارٹی عوام اور پارلیمنٹ پر اعتماد کرتی ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتوں کے پاس اس حکومت کا تختہ الٹنے  کی طاقت نہیں ہے تو پھر ہم انتظار کریں گے اور انتخابات ہوں گے اور پھر لوگ  خود انہیں لات مار کر نکالیں گے۔

بلاول کے چبھتے ہوئے طنز پر ن لیگی رہنما رانا ثناءاللہ بول پڑے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ  رائیونڈ کا نہ کوئی وزیر اعظم ہے نہ نوابشاہ کاکوئی صدر ہے ،وزیر اعظم تو پاکستان کا ہوتا ہے اور صدر بھی پاکستان کا ہوتا ہے۔

مزید کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حق میں بلاول بھٹو نے سب سے مدلل  انداز میں بات کی تھی ، اب وہ کسی بات پر ناراض ہیں اور بات بدل دی ہے،انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن اتحاد کا ہدف پیپلز پارٹی نہیں حکومت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button