بشیرمیمن کے الزامات، شہزاد اکبر کی کاروائی

پاکستان مسلم لیگ نواز نے بدھ کے روز ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن انکوائری کرے کہ وزیر اعظم ہاؤس سے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کس طرح سازشیں کی گئیں ، ان کے خلاف جعلی ریفرنس فیلڈ تھا اور ان کی ساکھ کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ سسلیئن مافیا کیا ہیں ، یہاں تک کہ گروہوں کے سربراہ بھی اس حد تک چلے گئے ہیں، انہوں نے کہا یہ سیاسی انجینئرنگ کی وجہ سے پاکستانی عوام کا مسئلہ ہے جو عمران خان کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے  مسائل میں گھرے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین کو استحصال کے مقصد کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔

مریم نواز کے مطالبات

ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ان کی پارٹی ایک سابق ڈی جی کے انکشاف پر عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کے آپشن رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم تمام حقائق سامنے لائیں گے کیونکہ اس معاملے میں ملک کی پانچ سالہ سیاسی تاریخ پر اثرانداز ہونے والی سازشیں پوشیدہ ہیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ تمام امور میں سب سے زیادہ سنگین بات یہ تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر اس کے خلاف سازش کی اور ایف آئی اے کو حکم دیا کہ وہ انھیں گرفتار کریں، انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ ہے اور ہم اس مسئلے کو بغیر کسی کارروائی کے چلنے نہیں دیں گے۔

مریم نواز نے سوال کیا کہ حکومت ان ججوں سے کیوں خوفزدہ ہے جو منصفانہ فیصلے دیتے ہیں ، حکومت صرف وہی جج چاہتی ہے جو ان کی خواہش پر عمل کرسکیں،مریم نے کہا ، میں جسٹس فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی کو سلام پیش کرتی ہوں جنہوں نے ریاستی دہشت گردی اور وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے ہوئے دہشت گرد کے خلاف بہادری سے مقابلہ کیا،” شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف ملنا چاہئے، انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خود اس معاملے کا نوٹس لیں جو عدلیہ کے ایک سینئر ممبر سے متعلق ہے جس نے کہا تھا کہ انشاء اللہ چیف جسٹس آف پاکستان بن جائیں گے۔

شہباز شریف

ادھر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن کے انکشافات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا،بدھ کو ی جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب-نیازی گٹھ جوڑ تشکیل پایا ہے جو مسلم لیگ کے رہنماؤں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنانے اور انہیں جیل بھیجنے میں سرگرم عمل ہے۔

بیرسٹر شہزاد اکبر

تاہم احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹر شہزاد اکبر کے وکلاء نے سابقہ ​​ڈائریکٹر جنرل بشیر احمد میمن کو ہتک عزت آرڈیننس 2002 کی ذیلی دفعہ 8 کے تحت شہزاد اکبر پر الزامات لگانے پر 50 کروڑ ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے،  نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بشیر میمن نے شہزاد اکبر پر بے بنیا الزامات عائد کیے ،ساکھ کو نقصان پہنچانےکی کوشش کی گئی،نوٹس میں تمام الزامات غلط قرار دیتے ہوئے 14 دنوں میں تمام الزامت واپس لینے اور غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے،نوٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر ملک میں کرپشن کے خلاف اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ساکھ کو نقصان پہنچانے کا مقصد کرپشن کے خلاف اقدامات کو نقصان ہے۔

بشیر میمن کو بھیجے گئے نوٹس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ  شہزاد اکبر،وزیر قانون اور پرنسپل سیکریٹری کے خلاف جھوٹے الزامت عائد کیے گئے،الزام لگایا گیا کہ معزز جج کے خلاف ایف آئی اے کو  استعمال  کرنا چاہتے تھے،ٹی وی پروگرام میں لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی جاتی ہے،بشیر میمن الزامات واپس لیں اور باضابطہ معافی مانگیں 14 دن میں الزامات واپس نہ لیے تو قانونی کاروائی کی جائے گی۔

Back to top button