ٹِک ٹاک پر پھر پابندی

سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کی تشہیر کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر بیرسٹر اسد اشفاق کی سربراہی میں  سماعت ہوئی۔

جسکے نتیجے میں سندھ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ سنادیا ہےاور اٹارنی جنرل اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 جولائی تک جواب طلب کرلیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے موقف اختیار کیا  کہ پی ٹی اے کوغیر اخلاقی مواد سے متعلق  شکایت کی  لیکن تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی  ،درخواست گزار کایہ بھی کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ بھی پی ٹی اے کو وارننگ جاری کرچکی ہے۔

جبکہ  جج نےفیصلے میں  ریمارکس دیے کہ  پابندی کے باوجود ٹک ٹاک پر  غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیا جارہا ہے،جج نے پی ٹی اے کو ایپلی کیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم  جاری کردیا ۔

پچھلے سال اکتوبر میں پی ٹی اے نے غیر مہذب اور غیر اخلاقی مواد سے متعلق شکایات پر پہلی بار ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی۔

تاہم اس پابندی کو 10 دن بعد انتظامیہ کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد ہٹایا گیا تھا کہ وہ فحاشی اور بدکاری کو پھیلانے میں بار بار ملوث تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیں گے۔

جبکہ 22 جون کو ، پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ایچ سی کو بتایا کہ اتھارٹی نے ٹک ٹاک پر 9.8 ملین ویڈیوز کو غیر اخلاقی مواد کے باعث ہٹا دیا ہے اور اس طرح کے مواد اپ لوڈ کرنے والے 720،000 اکاؤنٹس کو بھی  بند کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button