کینیڈا میں مسلم ماں بیٹی کو کچلنے کی کوشش

کینیڈا میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے خلاف  کینیڈین حکومت متحرک ہوگئی،نفرت انگیز واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

کینیڈین صوبے انٹاریو کے پاکستانی نژاد ایسوی ایٹ وزیر کلید رشید نے پاکستانی خبر رساں ادارے کو انٹرویو  میں کہا ہے کہ صوبائی انتظامیہ اسلاموفوبیا کے سدباب کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور مسلم کمیونٹی کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں  پر ہماری جو مسلم اورگنائزیشنز ہیں ان کے ساتھ  مل کر ہم نے فنڈنگ کا اعلان کیا ہے ۔اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد  یہاں پر رہنے والوں کی  تعلیم ہے جس کے ذریعے  انہیں یہ معلومات دی جائے  گی کہ اسلام کس قدر امن پسند مذہب  ہے اور اسکی حقیقت جاننا دنیا کے لیے کیوں ضروری ہے۔

کلید رشیدنے بتایا کہ گزشتہ روز مسلمان ماں بیٹی پر حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی نژاد مسلمان  خاندان کو شہید کرنے والے شخص پر دہشتگردی   کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مسلسل تین ماہ  سے کینیڈا میں اسلاموفوبیا  کے تحت  مسلمانوں کو  قتل ،مارپیٹ اور ہراسانی کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔

ایک روز قبل بھی ہیملٹن میں انتہا پسند شخص نے مسلمان ماں بیٹی کو کچلنے کی کوشش کی۔مسلح حملہ آور نے قتل کی دھمکیاں دیں اور جملے کسے۔

پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کردیں ہیں۔کینیڈا میں تیزی سے  بڑھتے اسلاموفوبیا  کے واقعات پر 22 جولائی کو ہنگامی قومی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button