نواز شریف پر حملہ ،حقیقت یا فسانہ

لندن میں نواز شریف پر حملہ ہوا یا ڈرامہ کیا گیا ، مبینہ حملے کے 24 گھنٹے بعد ویڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر لانے کی  وجہ سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے ۔

لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ4 مشتبہ افراد نے حسن نوازکے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی،روکنے پر  کہنے لگے نواز شریف سے ملنے آئے ہیں،مشتبہ حلیوں کے باعث لیگی کارکنان نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔

افسوس ناک واقعہ

 مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف  نے واقعے کو  افسوس ناک اور بزدلانہ قرار دیا،کہا کہ” حسین نواز کے دفتر میں گھس جانے کی بزدلانہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں  جہاں میاں نواز شریف بھی موجود تھے ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مسلح ہیں اور واضح طور پر واردات کا ایک لائحہ عمل طے تھا لیکن شکر ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ لندن پولیس کو واقعے کی تمام زاویوں سے چھان بین کرنی چاہئے”۔

 نواز شریف کی بیٹی اور مسلم لیگ کی سرگرم رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ” سیاسی مایوسی اور شکست کے عالم میں مخصوص جرم کا سہارا لیا جارہا ہے۔ عوام کی آواز کو تیسرے درجے کے  جلد ختم ہونے والے ہتکنڈوں کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جاسکتا ہے۔ # نوازشریف پاکستان کے عوام کی آواز ہیں اور انہیں خاموش نہیں کیا سکتا ، انشاء اللہ۔ اللہ آپ کی کی حفاظت فرمائے# نوازشریف "۔

مزید کہا "خدا کسی کو کم ظرف اور بزدل دشمن نہ دے”۔

لندن پولیس کا بیان

لندن پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں افراد غیر مسلح تھے ،نہ ہی کوئی حملہ ہوا نہ تشدد ہوا  اور نہ ہی  لیگی رہنماؤں کی جانب سے پولیس کو ہنگامی نمبرز پر کال کی گئی۔

 واقعہ جمعرات کو پیش آیا واویلا جمعہ کو شروع ہوا جسکی وجہ سے  واقعے کی  صداقت پر سوالات کھڑے ہوگئے۔

معاون خصوصی  وزیر اعلیٰ پنجاب فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ” نواز شریف کو لندن میں اگر اتنا خطرہ ہے تو یہاں تشریف لے آئیں ،یہاں کم از کم جیل میں انکی جان زیادہ محفوظ رہ سکتی ہے،جن افراد کی طرف نواز شریف  نشاندہی کر رہے ہیں ہمیں کیا پتہ کہ وہ انکے لین دین والے ہیں ،یہاں تو قانون نواز شریف کو ڈھونڈ رہا ہے عدالتیں انکو بلا رہی ہیں ،وہاں نواز شریف نے خود ہی انکشاف کردیا کہ کچھ افراد اور شخصیات کا بھی مال پانی کھایا ہوا ہے،وہاں بھی اور ادھر آکر بھی سامنا کریں بجائے اسکے کہ آپ چھپتے پھریں "۔ مزید کہا کہ” نواز شریف صاحب! یہ سارے معاملات کھلے میدان میں بیٹھ کر کیے جاتے ہیں بیٹوں کے آفس میں چھپ کر نہیں کیے جاتے”۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل نے بھی مریم نواز کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف کو ملک واپس آنے کی دعوت دے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button