سندھ قوم پرست جماعتوں کا حملہ

کراچی میں سپر ہائی وے پر قائم ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کراچی(بی ٹی کے) میں  صوبہ سندھ کے مختلف حصوں سے ہزاروں افراد ‘زمینوں پر قبضے’ ، ‘مقامی لوگوں کو زبردستی بے دخل کرنے’اور’ ترقی کے نام پر دیہات کو مسمار کرنے’کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے  پہنچے۔

ایس اے سی نے چند روز قبل ایم 9 نائٹ موٹر وے پر بحریہ ٹاؤن کراچی  کے مرکزی گیٹ کے باہر دھرنا دینے کا مطالبہ کیا تھا لہذا پولیس نے مظاہرین کو بی ٹی کے گیٹ کے قریب جانے سے روکنے کے لئے پہلے ہی  سڑکوں پر عارضی رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔

ہالہ ہالہ بحریہ ٹاؤن (یعنی آگے بڑھیں  بحریہ ٹاؤن) اس احتجاج کا ایک مرکزی نعرہ تھا جس نے نہ صرف کراچی بلکہ سندھ کے دیگر حصوں بشمول ٹھٹھہ ، ​​جامشورو ، سکھر ، لاڑکانہ اور حیدرآباد سے آنے والے لوگوں کو احتجاج کی طرف راغب کیا۔   

ایس اے سی نے برطانیہ اور امریکہ میں بیک وقت دھرنے دینے کے منصوبے بھی تھے تاکہ سندھ کے مقامی آبادی اور ان کی آبائی اراضی چھیننے کا معاملہ اٹھایا جاسکے۔

تاہم جب پولیس نے گاڑیوں کے قافلے میں سفر کرنے والے ایس اے سی رہنماؤں ، دانشوروں ، حقوق کارکنوں اور دیگر افراد کو بحریہ ٹاؤن کراچی  کے قریب جانے سے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے شاہراہ پر دھرنا دیا جس سے ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اچانک مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانا شروع کیں اور مرکزی گیٹ پر پہنچ گئے جبکہ وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے ہزاروں مظاہرین کو نہیں روکا۔

رہائشیوں میں خوف و ہراس

صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب ایک ہجوم نے مرکزی دروازے سے ملحقہ دفاتر ، ریستوران ، شوروم اور دیگر املاک کو آگ لگا دی جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

توڑ پھوڑ کی دیگر کارروائیوں میں ، دفاتر کے شیشوں کو پتھروں اور لاٹھیوں کے ساتھ توڑ دیا گیا ، اس کے علاوہ ایک بینک اور ایک اے ٹی ایم کو لوٹ کر آگ لگادی گئی۔

بی ٹی کے کے رہائشیوں نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا کیونکہ ہزاروں افراد رہائشی علاقوں میں داخل ہوئے اور مبینہ طور پر ایک پوری عمارت سے قیمتی سامان لوٹ لیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ لوگ مسلح تھے اور انہوں نے ایک پلازہ میں آگ لگادی جب کہ ان کے تحفظ کے لئے پولیس یا رینجرز کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ مکینوں نے تعجب کیا کہ وہ کس طرح کے زمینی متاثرین ہیں جنہوں نے انہیں اس طرح کے دہشت اور تشدد کا مظاہرہ کیا۔

رہائشیوں کا کہنا تھا کہ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد  انکی سوسائٹی ایک جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی تھی ،اُٹھتا ہوا کالا دھواں دور تک دکھائی دے رہا تھا۔

فائر بریگیڈ اہلکار وں نے پانچ فائر ٹینڈروں کی مدد سے بی ٹی کے میں پانچ سے چھ مقامات پر آگ بجھائی۔ گڈاپ ٹاؤن پولیس نے تین مختلف مقدمات دہشتگردی ،ہنگامی آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے تحت  120 ملزمان کو نامزد کیا ہے جبکہ انکے قوم پرست رہنما ؤں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button